شہدائے احمدیت — Page 228
خطبات طاہر بابت شہداء 217 خطبہ جمعہ ۶ ار جولائی ۱۹۹۹ء نے بہت محنت اور دعاؤں سے آپ کی پرورش کی۔شریفہ بیگم صاحبہ بہت نیک اور دعا گو خاتون ہیں اور خدا کے فضل سے ابھی تک زندہ ہیں۔چودھری عتیق احمد صاحب باجوہ نے ابتدائی تعلیم وہاڑی سے حاصل کی۔پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کر کے وہاڑی میں وکالت شروع کر دی اور ہمیشہ سچ پر مبنی کیس لیا کرتے تھے۔اوائل جوانی سے ہی آپ مختلف جماعتی عہدوں پر فائز رہے۔پہلے آپ قائد ضلع ، سیکرٹری اصلاح وارشاد اور قریباً نو سال تک امیر ضلع وہاڑی رہے۔بہت مخلص اور نڈر داعی الی اللہ تھے۔چندوں کی ادائیگی اور تمام مالی تحریکات میں آپ کی شمولیت ایک مثالی حیثیت رکھتی تھی۔آپ اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔اس دوران آپ اٹھارہ دن ملتان جیل میں قید رہے۔واقعہ شہادت: آپ ۱۹ جون ۱۹۹۷ء کو شام پانچ بجے اپنی گاڑی پر زمینوں کی طرف جارہے تھے کہ وہاڑی سے کچھ فاصلہ پر دوموٹر سائیکل سواروں نے آپ پر فائرنگ کردی جس سے آپ اور آپ کا ڈرائیور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔اناللہ وانا اليه راجعون۔بوقت شہادت آپ کی عمر اٹھاون سال تھی۔پسماندگان میں والدہ کے علاوہ بیوہ ڈاکٹر نسرین عقیق باجوہ صاحبہ اور ایک بیٹی اور تین بیٹے چھوڑے۔بیٹی خولہ عتیق شادی شدہ ہیں اور راولپنڈی میں آباد ہیں۔بڑا بیٹا فرید احمد باجوہ آسٹریلیا میں کمپیوٹر کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا ہے اور وہ جڑواں بیٹے نعیم احمد باجوہ اور خلیل احمد باجوہ الیکٹرانک انجینئر نگ کی اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔مکرم ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ڈھونیکی وزیر آباد ڈاکٹر نذیر احمد صاحب شہید، ڈھو نیکے (ضلع گوجرانوالہ)۔تاریخ شہادت ۲۷/۲۶ /اکتوبر ۱۹۹۷ء کی درمیانی رات مکرم ڈاکٹر نذیر احمد صاحب را جوری بھارتی کشمیر کے ایک گاؤں و داستی میں پیدا ہوئے۔۱۹۷۴ء میں والدین کے ہمراہ ہجرت کر کے واہ کینٹ آگئے۔ابتدائی تعلیم پہلے واہ کینٹ اور پھر وزیر آباد میں حاصل کی۔خدا تعالیٰ نے آپ کو خاص دست شفا عطا فرمایا اور سارا علاقہ آپ کی انسانیت دوستی ، ہمدردی اور طبی خدمات کا معترف تھا۔باوجود ایک کم تعلیم یافتہ ڈاکٹر ہونے کے لوگ دور درواز سے آپ کے پاس علاج کے لئے آتے تھے۔خدمت خلق میں مصروف ہونے کے علاوہ آپ مختلف جماعتی عہدوں پر بھی فائز رہے۔صف اول کے مالی قربانی کرنے والے تھے۔اپنے کلینک سے متصل جگہ مسجد کے طور پر جماعت کو دے رکھی تھی۔