شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 194 of 297

شہدائے احمدیت — Page 194

خطبات طاہر بابت شہدا 185 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء ضمناً یہاں یہ بھی ذکر کر دوں کہ مکرمہ آپا سارہ صاحبہ اہلیہ کرنل صادق ملک صاحب آف راولپنڈی کی وفات پر میں نے ذکر کیا تھا کہ آپ چینی صاحب کی بیٹی تھیں۔اول تو آپ قاری غلام مجتبی صاحب جو چینی کہلاتے تھے ان کی بیٹی نہیں بلکہ نواسی تھیں۔یہ درستی ریکارڈ میں ہو جانی چاہئے۔دوم یہ کہ قاری صاحب چینی نہیں تھے۔غالباً اس لئے چینی مشہور ہو گئے کہ ان کی دوسری شادی ہانگ کانگ میں ایک چینی خاتون سے ہوئی تھی اور عبد القادر صاحب چینی شہید فیصل آباد اسی چینی بیوی کے بطن سے تھے جبکہ سارہ بیگم کی والدہ غیر چینی ماں کے بطن سے تھیں۔مکرم ڈاکٹر انعام الرحمن صاحب انور سکھر ڈاکٹر انعام الرحمن صاحب انور شہید ،سکھر۔تاریخ شہادت: ۱۵ / مارچ ۱۹۸۵ ء۔آپ مولوی عبدالرحمن صاحب انور کے ہاں ۱۹۳۷ء میں قادیان میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم قادیان میں ہی حاصل کی۔میٹرک ربوہ سے کیا۔لاہور سے ہیلتھ ٹیکنیشن کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے سندھ میں جا کر میڈیکل پریکٹس شروع کی۔نہایت مخلص، غریبوں کے ہمدرد اور جماعتی کاموں سے گہرا لگاؤ رکھنے والے انسان تھے۔آپ سکھر ، شکار پور اور جیکب آباد کے اضلاع کی مجالس انصار اللہ کے ناظم تھے۔بوقت شہادت سکھر کے نزدیک گوٹھ عبدو کی سرکاری ڈسپنسری کے انچارج کے طور پر ملازمت کر رہے تھے۔آپ کی بیگم مکرمہ امتہ الحفیظ شوکت صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن لوگوں نے آپ کو حالات خراب ہونے اور اس کے نتیجہ میں درپیش خطرات سے آگاہ کیا تو آپ نے یہ کہہ کر علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ پھر تو یہ علاقہ احمدیت سے خالی ہو جائے گا۔آپ کے تمام بہن بھائیوں اور عزیز واقارب نے بھی سندھ چھوڑنے کا مشورہ دیا مگر اس وقت بھی حامی نہ بھری بلکہ کہنے لگے کہ شاید سندھ کی سرزمین میرا خون مانگتی ہے اور پھر سینہ پر ہاتھ مار کر کہنے لگے کہ میں اس کے لئے تیار ہوں۔۱۵ مارچ ۱۹۸۵ء کو مسجد احمد یہ سکھر میں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد آپ اپنی بیگم صاحبہ کے ساتھ گوشت خریدنے کے لئے بازار گئے اور ایک دکان سے گوشت لے کر ابھی جیب سے پیسے نکالنے لگے تھے کہ اچانک پیچھے سے دشمنوں نے بندوق اور چاقوؤں سے آپ پر حملہ کر دیا جس سے آپ کا جسم خون میں لت پت ہو گیا۔آپ نے اپنے خون میں انگلیاں ڈبوکر ” لا اله الا اللہ “ لکھا اور وہیں