شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 297

شہدائے احمدیت — Page 195

خطبات طاہر بابت شہدا 186 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء تڑپتے تڑپتے جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔انا للہ وانا اليه راجعون۔شہادت کے وقت آپ کی عمر انچاس سال کے قریب تھی۔شہید مرحوم نے بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا اور ایک بیٹی یادگار چھوڑے۔آپ کے بیٹے محمود الرحمان صاحب انور شادی شدہ ہیں اور سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں جبکہ بیٹی امتہ النصیرا نو ر صاحبہ اہلیہ فضل الرحمان صاحب انور ہمبرگ جرمنی میں مقیم ہیں۔مکرم چودھری عبدالرزاق صاحب شہید بھریا روڈ چودھری عبدالرزاق صاحب شہید۔بھر یا روڈ ( سندھ )۔تاریخ شہادت ۷ اپریل ۱۹۸۵ء۔آپ مکرم عبدالستار صاحب کے ہاں ۱۹۲۹ء میں گوکھو وال ضلع فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔میٹرک کر کے ایک دوست کے پاس بطورا کا ؤنٹنٹ کام شروع کیا جو آپ کی دیانت ، معاملہ نہی اور قابلیت سے اتنا متاثر ہوئے کہ آپ کو اپنے کاروبار میں حصہ دار بنالیا۔بعد ازاں آپ نے سندھ جا کر بھر یا روڈ میں کپڑے کا کاروبار شروع کیا۔اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت دی کہ آپ ایک کاٹن فیکٹری ، کھاد کی ایجنسیوں اور تقریباً دوسو ایکڑ اراضی کے مالک بن گئے۔غلہ منڈی بھر یا روڈ کے منتخب صدر بھی رہے۔مکرم چوہدری صاحب ایک صابروز اہد انسان تھے۔آپ شروع سے ہی بھر یا روڈ ضلع نوابشاہ کی جماعت کے مقامی صدر تھے۔شہادت سے ایک سال قبل امیر ضلع بھی مقرر ہوئے۔۱۹۸۴ء کے آرڈینینس کے بعد آپ کو گمنام خطوط کے ذریعہ متواتر دھمکیاں ملتی رہتی تھیں کہ مسلمان ہو جاؤ ورنہ قتل کر دیئے جاؤ گے مگر آپ کبھی بھی ان دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوئے۔۷ را پریل ۱۹۸۵ ء کو حسب معمول اپنی آڑھت کی دکان پر بیٹھے تھے کہ دن کے گیارہ بجے ایک بد بخت نے آپ پر گولی چلا دی جس سے آپ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔انــا لــــه وانــا اليه راجعون۔واردات کے بعد قاتل کو لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔میر محمد نامی قاتل کا تعلق شر قوم سے تھا۔قاتل نے ابتدائی بیان میں کہا کہ چودھری عبدالرزاق قادیانی اور کا فر تھا اس لئے ان کو قتل کر کے میں نے اپنے لئے جنت میں جگہ بنائی ہے۔پس ماندگان میں شہید مرحوم نے ضعیف والدہ اور بیوہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے یادگار چھوڑے۔بڑے بیٹے مکرم چودھری محمود احمد صاحب قائد ضلع نوابشاہ اور قائد نوشہرو فیروز رہے ہیں۔آج کل ناظم مجلس انصار اللہ بھر یا روڈ ہیں۔آڑھت کا کاروبار کرتے ہیں اور اپنی خاندانی زمینوں