شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 187 of 297

شہدائے احمدیت — Page 187

خطبات طاہر بابت شہدا 180 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء کاروبار شروع کیا۔آپ بھی اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں شریک ہو گئے اور کچھ عرصہ بعد اپنا علیحدہ کاروبار شروع کر دیا۔جو گاہک ایک دفعہ آتا وہ آپ کے حسن سلوک اور دیانت داری سے متاثر ہوتا اور آپ کے اخلاق کا گرویدہ ہو جاتا۔مرحوم سلسلہ کے فدائی تھے اور نظام جماعت سے بہت اخلاص کا تعلق رکھتے تھے۔۱۲ / اگست ۱۹۸۳ء کے خطبہ جمعہ میں جب میں نے ڈاکٹر مظفر احمد شہید امریکہ کا ذکر کیا تو آپ کی طبیعت پر اس کا بہت گہرا اثر ہوا اور آپ نے انتہائی حسرت سے یہ جملہ کیا کہ یہ تو قسمت والوں کو ملتی ہے۔ایک ماہ بعد ہی ۱۸ ستمبر ۱۹۸۳ء کوعید الاضحی کی نماز ادا کرنے کے بعد واپس اپنے گھر آئے تو قربانی کا بکرا ذبح کرنے والے قصاب کی آمد میں قدرے تاخیر ہونے پر اسے دیکھنے گھر سے باہر نکلے ہی تھے کہ ایک شقی القلب محمد اسلم نے احمدیت دشمنی میں ان کی پسلی میں چھرا گھونپ دیا۔خون بہنے لگا لیکن آپ کو اس بات کا احساس تک نہ ہوا کہ زخم کاری ہے۔زخم پر ہاتھ رکھ کر خود ہی قریبی ڈاکٹر کے پاس گئے۔ڈاکٹر نے زخم کی نوعیت دیکھ کر ہسپتال جانے کا مشورہ دیا۔بھائیوں نے آپ کو سی۔ایم۔ایچ اوکاڑہ چھاؤنی پہنچایا۔اس عرصہ میں خون کافی بہ چکا تھا جس کی وجہ سے آپ جانبر نہ ہو سکے اور عزیزوں سے باتیں کرتے کرتے دم توڑ دیا۔انا لله وانا اليه راجعون۔قاتل کو پولیس کے حوالہ کیا گیا۔یہ شخص اسی شہر کا رہنے والا تھا۔اس نے بیان دیا کہ میں نے قتل کیا ہے کیونکہ ناصر نے رسول اکرم ﷺ کی بہت توہین کی (نعوذ باللہ من ذالک ) جسے میں برداشت نہ کر سکا۔حالانکہ وار کرنے سے پہلے آپ کی اس سے کبھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔۵ فروری ۱۹۸۵ء کومحمد الیاس ایڈیشنل سیشن جج اوکاڑہ نے مجرم کو صرف تین سال قید کی سزا دی اور فیصلہ میں لکھا کہ قاتل چونکہ پہلے ہی دو سال سے جیل میں ہے اس لئے یہ دوسال اس کی سزا سے منہا ہوں گے۔پسماندگان میں شہید مرحوم نے بیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اور چار بیٹے یاد گار چھوڑے۔جن ایسے لوگوں کا ذکر ہوتا ہے اگر کسی کے علم میں ہو کہ آزادی کے بعد ان پر کیا بنی تو مہربانی فرما کر وہ اب بھی مجھے مطلع کر دیں تا کہ وہ ہماری تاریخ کا حصہ بن جائے۔مرحوم نے بیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اور چار بیٹے یاد گار چھوڑے۔بابر احمد شادی شدہ ہیں اور کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں۔ڈاکٹر عامر محمود صاحب ( امیر ضلع اوکاڑہ ) اوکاڑہ میں محمود پولی کلینک