شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 186 of 297

شہدائے احمدیت — Page 186

خطبات طاہر بابت شہدا کے دوران کہا: 179 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۹۹ء رہے ہیں۔” اے ڈیٹرائٹ اور امریکہ کے دوسرے شہروں میں بسنے والے احمد یو!“ اور وہ بھی جو امریکہ سے باہر بس رہے ہو یعنی ”اے مشرق اور مغرب میں آباد اسلام کے جاں شارو ! اس عارضی غم سے مضمحل نہیں ہونا کہ یہ ان گنت خوشیوں کا پیش خیمہ بننے والا ہے دنیا میں جتنی ترقیات احمدیت کو نصیب ہو رہی ہیں انہی شہدا کے خون کے قطرے رنگ لا اس شہید کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہے اور اس راستہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹو جس پر چلتے ہوئے وہ مرد صادق بہت آگے بڑھ گیا۔تمہارے قدم نہ ڈگمگائیں تمہارے ارادے متزلزل نہ ہوں“۔اے مظفر تجھ پر سلام کہ تیرے عقب میں لاکھوں مظفر آگے بڑھ کر تیری جگہ لینے کے لئے بے قرار ہیں۔اور اے مظفر کے شعلہ حیات کو بجھانے والو! تم نے تو اسے ابدی زندگی کا جام پلا دیا۔زندگی اس کے حصہ میں آئی اور موت تمہارے مقدر میں لکھ دی گئی۔( خطبات طاہر جلد دوم صفحہ ۴۲ - ۴۲۲) پس ماندگان میں بیوہ مکرمہ آسیہ بیگم صاحبہ کے علاوہ دو بیٹے چھوڑے۔بڑے بیٹے عزیزم غفنفر احمد صاحب آپ کی شہادت کے وقت چار سال کے تھے اور اس وقت میری لینڈ یو نیورسٹی میں کمپیوٹر انجینئر نگ میں ڈگری کر رہے ہیں۔دوسرے بیٹے جعفر منصور احمد ، باپ کی شہادت کے دو ماہ بعد پیدا ہوئے۔اس وقت پندرہ سال کے ہیں اور ہائی سکول کی تعلیم مکمل کر کے آگے پڑھ رہے ہیں۔شیخ ناصر احمد صاحب شہید اوکاڑہ شیخ ناصر احمد شہید اوکاڑہ۔تاریخ شهادت : ۱۸ رستمبر ۱۹۸۳ء۔مکرم شیخ ناصر احمد صاحب ۱۹۴۲ء میں موگہ ضلع فیروز پور انڈیا میں محترم شیخ فضل محمد صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔آپ کے دادا حضرت شیخ دین محمد صاحب کو 1903 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریری بیعت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔قیام پاکستان کے بعد آپ کے والدین اوکاڑہ میں آباد ہوئے اور کپڑے کا