شہدائے احمدیت — Page 132
خطبات طاہر بابت شہداء 124 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء اوصاف حمیدہ۔آپ خاموش طبع اور محنتی طالبعلم تھے۔انگریزی زبان پر عبور حاصل تھا۔جماعت سے انتہائی محبت اور عقیدت رکھتے تھے۔امام وقت کے ہر حکم پر لبیک کہنے والے تھے۔مطالعہ کا بہت شوق تھا۔مکرم چوہدری فضل داد صاحب مرحوم لائبریرین تعلیم الاسلام کالج قادیان بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے لائبریری کی تقریبا تمام کتب پڑھ لی تھیں۔واقعہ شہادت۔آپ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد کے مطابق اپنے گھر دارالرحمت قادیان بر مکان خان ارجمند خان صاحب مرحوم محلہ کی حفاظت کے سلسلہ میں مقیم تھے۔گھر میں دونالی بندوق تھی۔ادھر ادھر سے سکھوں کے ہونے والے حملوں کے دوران خوب مقابلہ کرتے رہے۔ایک رات سکھوں نے ان کے گھر کی دیوار پھاند کر اندھیرے میں آپ پر حملہ کیا اور آپ کو شہید کر دیا۔جب خدام کو حکم ہوا کہ وہ ہوسٹل میں جمع ہو جائیں تو آپ کو نہ پا کر جب پتہ کیا گیا تو آپ کو گھر کے صحن میں چت پڑا پایا گیا۔آپ کی انتڑیاں باہر نکل چکی تھیں اور آپ شہید ہو چکے تھے۔انالله وانا اليه راجعون۔آپ کے والد صاحب جو ان دنوں تنزانیہ میں تھے وہ بھی اللہ کے فضل سے بہت مخلص انسان تھے۔دراصل ان سے ہی اخلاص ورثہ میں پایا تھا۔ان کی ڈائری کے اندراج بتاریخ ۳ /ستمبر ۱۹۴۷ء میں یہ پر خلوص عبارت درج ہے۔آج قادیان میں عزیز محمد منیر خان شامی نے شہادت پائی۔الحمد للہ رب العالمین۔“ پسماندگان: آپ غیر شادی شدہ تھے۔آپ کے تین بھائی اور ایک بہن زندہ ہیں۔سب سے بڑے بھائی ڈاکٹر محمد حفیظ خان صاحب آج کل ٹورانٹو میں رہتے ہیں۔شہید کے دو چھوٹے بھائی بھی تھے محمد معین خان صاحب لاہور میں اور پروفیسرمحمد شریف خان صاحب ربوہ میں مقیم ہیں۔جبکہ ان کی بہن خدیجہ بیگم صاحبہ مانٹریال میں آنا یہ ہیں۔مکرمہ حمیدہ بیگم صاحبہ اور عزیزم عظیم احمد ولد پنڈت عبداللہ صاحب قادیان حمیدہ بیگم اہلیہ عبد السلام پنڈت صاحب اور عظیم احمد ولد پنڈت عبداللہ صاحب۔عمر ساڑھے چار سال۔شہدائے قادیان۔قادیان میں کرفیو لگا ہوا تھا۔جماعت نے محلہ کی عورتوں اور بچوں کو فضل حسین صاحب بوٹوں والے کے گھر رکھ کر دشمن کو بے خبر رکھنے کی خاطر گھر سے باہر تالا