شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 297

شہدائے احمدیت — Page 133

خطبات طاہر بابت شہداء 125 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء لگا دیا تھا۔حملہ آوروں کے جتھے نے تالہ توڑ کر اندر آ کر لوٹ مار اور قتل و غارت شروع کی۔پنڈت عبداللہ صاحب کے بڑے بیٹے عبدالسلام پنڈت کی اہلیہ حمیدہ بیگم اپنی ایک بھانجی کو بچانے کی کوشش میں شہید کر دی گئیں۔پنڈت عبداللہ صاحب کا سب سے چھوٹا بیٹا عظیم احمد عمر ساڑھے چار سال اپنے بھائی با بو مسعود کی گود میں تھا حملہ آوروں نے تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا سر بھی کاٹ ڈالا اور یہ کم سن موقع پر ہی شہید ہو گیا۔اس وقوعہ میں پنڈت عبداللہ کے ایک بیٹے پنڈت نصر اللہ صاحب جو آج کل ربوہ میں ڈسٹمپر وغیرہ کا کام کرتے ہیں کو بھی شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔عبدالسلام پنڈت صاحب ہالینڈ والے باسط صاحب کے ابا ہیں۔ہالینڈ والے عبدالباسط صاحب کوسب جماعت ہالینڈ کے لوگ ان کے خاص غیر معمولی اخلاص کی وجہ سے جانتے ہیں لیکن جو بیگم ان کی شہید ہوئی تھیں ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔حمیدہ بیگم صاحبہ، سلام صاحب کی پہلی بیگم تھیں۔دوسری شادی امتہ القیوم صاحبہ سے ہوئی جو ہالینڈ والے عبدالباسط کی والدہ ہیں۔ان سے پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں جو سب خدا تعالیٰ کے فضل سے دین و دنیا میں بہت اچھے ہیں اور ہمیشہ خدمت کے کاموں میں آگے رہتے ہیں۔مکرم با بوعبدالکریم صاحب اور دیگر شہدائے پونچھ با بوعبدالکریم صاحب ابن نواب علی خان صاحب یوسف زئی پونچھ ریاست جموں وکشمیر۔آپ ۸/ جون ۱۹۳۳ء کو ایک خواب کی بنا پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔جماعت میں آپ کی شہرت کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کو ۱۹۳۳ء میں ایک برطانوی فوجی کی حیثیت سے شرق اوسط یعنی مشرق وسطی میں جانے کا موقع ملا تو وہاں آپ نے جامعہ ازھر کی مجلس افتاء کو یہ استفسار بھیجا کہ کیا قرآن کریم اور سنت نبوی سے عیسی بن مریم علیہ السلام وفات یافتہ ثابت ہوتے ہیں یا چوتھے آسمان پر زندہ موجود ہیں۔اسی استفسار کے جواب میں الاستاذ محمود شلتوت مفتی مصر نے وفات مسیح کے حق میں اپنا وہ عظیم الشان مدلیل فتویٰ دیا جو جماعت کے لٹریچر میں بہت شہرت پا گیا ہے۔ان پر بہت دباؤ ڈالا گیا علماء کی طرف سے کہ اس فتویٰ کو واپس لے لیں یا اس میں تبدیلی کریں لیکن وہ مرد خدا قائم رہا۔یہ واقعہ استفتاء کا انہی بابو صاحب سے تعلق رکھتا ہے۔واقعہ شہادت: بابو عبدالکریم صاحب نے اپنی ملکیتی زمین کا ایک حصہ جماعت احمد یہ