شہدائے احمدیت — Page 131
خطبات طاہر بابت شہداء 123 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ١٩٩٩ء قادیان کی صحابیات نے کا تا اور پھر ایک بزرگ صحابی حضرت میاں خیر دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ دری باف اور دوسرے صحابہ نے مل کر وہ کپڑا تیارکیا۔(تاریخ احمدیت جلد ہشتم صفحہ ۵۸۵) واقعہ شہادت: جب ملک تقسیم ہوا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ جب تک مرکز اجازت نہ دے اس وقت تک اردگرد کے بعض احمدی دیہات کے افراد اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔ونجواں کے لئے بھی یہی حکم تھا۔چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے بھائی چوہدری علی محمد صاحب نماز تہجد ادا کرنے کے بعد نماز فجر کے لئے ابھی صفیں سیدھی ہی کر رہے تھے کہ سکھوں نے حملہ کر دیا اور سب سے پہلے چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہادت نصیب ہوئی۔بہت سے احمدی زخمی ہوئے ان میں چوہدری صاحب کے بیٹے محمد اسمعیل بھی تھے۔ملٹری والے انہیں دھار یوال ہسپتال لے گئے وہاں سے ڈسچارج ہو کر اسمعیل صاحب قادیان کے لئے روانہ ہوئے تو پیچھے سے گولی مار کر انہیں بھی شہید کر دیا گیا۔اناللہ وانا اليه راجعون۔پسماندگان۔حضرت چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد تین بیٹوں اور تین مشتمل ہے۔ان کے سب سے بڑے بیٹے مکرم محمد اسمعیل صاحب کو تو ۱۹۴۷ء میں ہی شہید کر دیا گیا تھا۔باقی دونوں بیٹے مکرم احمد علی صاحب اور مکرم فضل الہی صاحب بھی اب وفات پاچکے ہیں جبکہ تینوں بیٹیاں خدا کے فضل سے زندہ ہیں۔بڑی بیٹی کا نام غلام بی بی ہے ، دوسری شریفاں بی بی اور تیسری ناصرہ بی بی صاحبہ۔حضرت چوہدری صاحب کی اولاد پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور خدا کے فضل سے اکثر بڑے اخلاص سے اپنے اپنے رنگ میں جماعت کی خدمت کی توفیق پار ہے ہیں۔بیٹیوں پر لرم محمد منیر صاحب شامی قادیان مکرم محمد منیر صاحب شامی۔آپ مکرم ڈاکٹر حبیب اللہ صاحب ابو منیفی کے ہاں تنزانیہ میں ۱۹۲۲ء میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔۱۹۴۷ء کے دوران آپ تعلیم الاسلام کالج قادیان میں بی اے کے طالب علم تھے۔آپ واقف زندگی تھے اور عربوں سے اپنی ہمدردی کی وجہ سے آپ کو لوگوں نے شامی مشہور کر دیا حالانکہ ملک شام سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا لیکن عربوں سے محبت تھی۔