شہدائے احمدیت — Page 130
خطبات طاہر بابت شہداء 122 خطبہ جمعہ ا ا / جون ۹۹ ا بھی کشمیر سے چند دوست آئے ہوئے تھے انہوں نے عدالت خان کا ایک عجیب واقعہ سنایا جسے سن کر رشک پیدا ہوتا ہے کہ احمدیت کی صداقت کے متعلق اسے اتنا یقین اور وثوق تھا۔وہ ایک گاؤں میں بیمار ہوا تھا جہاں کوئی علاج میسر نہیں تھا۔جب اس کی حالت بالکل خراب ہو گئی تو ان دوستوں نے سنایا کہ وہ ہمیں کہنے لگا کہ کسی غیر احمدی کو تیار کرو۔“ اب یہ ترکیب بھی خوب سوجھی ہے ان کو۔کسی غیر احمدی کو تیار کر و جواحمدیت کی صداقت کے متعلق مجھ سے مباہلہ کرلے۔اگر کوئی ایسا غیر احمدی مل گیا تو میں بچ جاؤں گا اور اسے تبلیغ بھی ہو جائے ١٩٩٩ء گی ورنہ میرے بیچنے کی اور کوئی صورت نہیں۔‘ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ صفحہ ۶) مکرم چوہدری فقیر محمد صاحب اور محمد اسماعیل صاحب آف و نجواں مکرم چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ ونجواں ضلع گورداسپور اور مکرم محمد اسمعیل صاحب ابن چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ صدر جماعت ونجواں۔چوہدری فقیر محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔اس حیثیت سے آپ کو ۱۹۳۹ء میں خلافت جو بلی کے موقع پر لوائے احمدیت کی تیاری میں شمولیت کا موقع ملا۔یہ چوہدری فقیر محمد صاحب کے لئے اور ان کی اولاد کے لئے بھی ایک بہت یادرکھنے والی بات ہے، بہت عظیم الشان واقعہ ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اصولی ہدایت فرمائی تھی کہ لوائے احمدیت کی تیاری میں صرف صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شامل کیا جائے۔یعنی آغاز سے آخر تک بیج کی کاشت سے لے کر اس کی برداشت تک اور پھر سوت کاتنے تک ہر مر حلے پر صرف صحابہ کا ہاتھ لگے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد یہ کام کیا گیا تھا کہ اپنی نگرانی میں کروائیں۔چوہدری فقیر محمد صاحب نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے ارشاد پر اپنے ہاتھ سے کپاس کا بیج بویا، خود پانی دیا ، پھر چنا اور صحابیوں سے ہی اس کو دھنوایا۔یعنی اس کو دھنکنے والے بھی صحابہ تلاش کر لئے اور اپنے گھر میں اس کو کتو ایا۔آپ نے کچھ اور روئی دی جسے میری والدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نگرانی میں