شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 5 of 297

شہدائے احمدیت — Page 5

خطبات طاہر بابت شہداء 5 خطبہ جمعہ ۶ اراپریل ۱۹۹۹ء خوفناک حالت تم پر طاری ہوگی اور کبھی فقر وفاقہ تمہارے شامل حال ہوگا اور کبھی تمہارا مالی نقصان ہوگا اور کبھی جانوں پر آفت آئے گی اور کبھی اپنی محنتوں میں ناکام رہو گے اور حسب المراد نتیجے کوششوں کے نہیں نکلیں گے اور کبھی تمہاری پیاری اولا د مرے گی۔پس ان لوگوں کو خوشخبری ہو کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کی چیزیں ہیں اور اس کی امانتیں اور اس کی مملوک ہیں۔پس حق یہی ہے کہ جس کی امانت ہے اس کی طرف رجوع کرے۔یہی لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہیں جو خدا کی راہ کو پاگئے۔غرض اسی خلق کا نام صبر اور رضا برضائے الہی ہے“۔رپورٹ جلسه اعظم مذاہب صفحہ ۱۱۶،۱۱۵) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی تعلق میں ان قربانیوں کے ادوار میں جماعت کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کوئی یہ نہ کہے کہ میرے پر ہی تکلیف اور ابتلاء کا زمانہ آیا ہے بلکہ ابتداء سے سب نبیوں پر آتا رہا ہے۔ایک روایت میں لکھا ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گیارہ بیٹے فوت ہوئے تھے۔آخر بشریت ہوتی ہے غم کا پیدا ہونا ضروری ہے مگر ہاں صبر کرنے والوں کو پھر بڑے بڑے اجر ملا کرتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں:۔” جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان پڑتا ہے اور ابتلاء آتا ہے تو وہ رگ اور پیٹھے کا لحاظ رکھ کر نہیں آتا۔یہ بہت دلچسپ عبارت ہے۔لمبی ہے اس میں سے میں نے ایک ٹکڑا لیا ہے۔مراد یہ ہے کہ انسان خود خدا کی راہ میں جتنی مرضی محنت کرے اور اپنے بدن کو اس لئے کمائے کہ خدا کی راہ میں خرچ کرے۔جتنی چاہے ریاضت کرے مگر وہ اپنے رگ پٹھے کا بھی خیال رکھتا ہے اور کبھی اس سے غافل نہیں ہوتا مگر جب خدا ابتلاء میں ڈالتا ہے تو ہر گزرگ پٹھے کا خیال نہیں کرتا پھر جس قدر اس کو تکلیف