شہدائے احمدیت — Page 6
خطبات طاہر بابت شہداء 6 خطبہ جمعہ ۶ ار اپریل ۱۹۹۹ء پہنچے، پہنچنے دیتا ہے اور وہ تکلیف اس کی مرضی سے نہیں ہوتی۔بے اختیار کے عالم میں مجبور کر دیا جاتا ہے کہ وہ خدا کی راہ میں تکلیف اٹھائے اور صبر دکھائے۔پس یہ وہ مضمون ہے جس کے متعلق میں یہ عبارت پڑھ رہا ہوں اس میں رگ پیٹھے کا جو لفظ آیا ہے اس کو اچھی طرح سمجھ لیجئے۔فرماتے ہیں:۔ابتلاء آتا ہے تو وہ رگ اور پٹھے کا لحاظ رکھ نہیں آتا۔خدا کو اس کے آرام اور رگ پٹھے کا خیال مدنظر نہیں ہوتا۔انسان جب کوئی مجاہدہ کرتا ہے تو اپنا تصرف رکھتا ہے مگر جب خدا کی طرف سے کوئی امتحان آتا ہے تو اس میں انسان کے تصرف کا دخل نہیں ہوتا۔انسان خدا کے امتحان میں بہت جلد ترقی کر لیتا ہے اور وہ مدارج حاصل کر لیتا ہے جو اپنی محنت اور کوشش سے کبھی حاصل نہیں کر سکتا“۔(احکم جلدا انمبر۳۴ ، مورخہ ۲۴ ستمبر ۱۹۰۷ صفحه ۵) عمر بھر ریاضتوں میں جو گزر جائے اس کے نتیجے میں اس تیزی کے ساتھ انسانی روح خدا کے حضور صعود نہیں کرتی جتنا خدا کی طرف سے ڈالے ہوئے ابتلاء میں ظہور میں آتا ہے اور یہی صورت ہمارے شہید عزیزم غلام قادر کی شہادت پر اطلاق پاتی ہے۔اس تمہید کے بعد جو قرآنی آیات اور احادیث اور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات کی روشنی میں میں نے آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔اب میں عزیزم مرزا غلام قادر کی شہادت کے متعلق کچھ ایسی باتیں کرنا چاہتا ہوں جو اکثر جماعت کو معلوم نہیں ہونگی۔اور کیوں میں اس شہادت کو ایک بہت عظیم اور غیر معمولی شہادت قرار دے رہا ہوں اس کی وجوہات جماعت کی سمجھ نہیں آئیں گی۔شاید یہ سمجھتے ہوں کہ میرا رشتہ دار شہید ہوا ہے اس لئے ہم یہ باتیں کر رہے ہیں۔جب میں سمجھاؤں گا تو پھر یہ سمجھ آئے گی کہ اس میں رشتے داری یا قرب کا کوئی تعلق نہیں ، یہ شہادت واقعہ ایک غیر معمولی شہادت ہے۔اس کے کئی پہلو ایسے ہیں جن کو اس وقت اجاگر کر کے بیان کرنے کی ضرورت ہے اور اس اعلان کے ساتھ جو بھی جمعہ میں شریک احباب و خواتین ہیں میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ نماز جمعہ کے معاً بعد میں ان کی نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا تو وہ اس میں شریک ہو کر سعادت دارین حاصل کریں۔