شہدائے احمدیت — Page 4
خطبات طاہر بابت شہداء 4 خطبہ جمعہ ۶ ار اپریل ۱۹۹۹ء اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کو زندہ کیا۔اس سے آمنے سامنے گفتگو ہوئی اور فرمایا میرے بندے مجھ سے جو مانگنا ہے مانگ میں تجھے دوں گا۔تو تمہارے والد نے جواباً عرض کیا۔اے میرے رب میں چاہتا ہوں کہ تو زندہ کر کے مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج دے تا کہ تیری خاطر دوبارہ قتل کیا جاؤں۔اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ میں یہ قانون نافذ کر چکا ہوں کہ کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے دنیا میں نہیں لوٹاؤں گا“۔( ترمذی ابواب التفسیر تفسیر سورۃ آل عمران ) اسی حدیث کے مختلف ورژن (Version) یعنی مختلف رنگ میں اسی مضمون پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے روشنی ڈالی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ شہید خدا کے حضور پیش ہوا اور اس نے کہا کہ مجھے سو بار دنیا میں بھیج اور سو بار تیری راہ میں قتل کیا جاؤں اور ہر بار میری یہی خواہش ہو کہ میں دوبارہ دنیا میں جاؤں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہی جواب دیا کہ یہ نہیں ہوسکتا۔ایک حدیث میں آنحضور صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی بھی ایسی ہی خواہش کا ذکر فرمایا ہے۔ان سب امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ شہید کو مردہ نہیں کہنا، وہ زندہ ہے بلکہ سب زندوں سے زیادہ زندہ ہے اور ایسا زندہ ہے جس زندگی سے قوم زندگی پاتی ہے۔اس پہلو سے جس شہادت کا میں ذکر کرنے لگا ہوں اس میں بھی یہ خصوصیت تھی کہ اس کی شہادت سے قوم نے واقعہ غیر معمولی طور پر زندگی پائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں ایسی قوت ایمانی اور قوت اخلاقی اور ثابت قدمی دکھلا دے کہ جو خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان کے ہو جائے“۔پھر فرماتے ہیں:۔(روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۱۶) اے مومنو! ہم تمہیں اس طرح پر آزماتے رہیں گے اور کبھی