شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 119 of 297

شہدائے احمدیت — Page 119

خطبات طاہر بابت شہداء 110 مکرم مبارک احمد صاحب ساقی لندن خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء مکرم مبارک احمد صاحب ساقی مبلغ انگلستان تاریخ وفات ۶ ارمئی ۱۹۹۲ء۔مکرم مبارک احمد ساقی صاحب مکرم چوہدری فضل دین صاحب کے بیٹے اور حضرت چوہدری پیر محمد صاحب صحابی حضرت اقدس مسیح موعود کے پوتے تھے۔۱۹۵۰ء سے ۱۹۵۲ء تک مولوی فاضل اور شاہد کلاس میں کامیابی کے بعد بطور واقف زندگی میدان عمل میں کام شروع کر دیا۔ہم دونوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے کلاس فیلو ہونے کا موقع ملا۔آپ کو امیر ومشنری انچارج کے طور پر لائبیریا میں بھی خدمت کی توفیق ملی۔۱۹۷۸ء میں انگلستان تقرر ہوا۔اس دوران آپ نائب امام مسجد فضل لندن کے طور پر خدمت سرانجام دیتے رہے۔پھر ۱۹۸۴ء میں میری انگلستان ہجرت کے بعد آپ مختلف اہم مرکزی عہدوں پر فائز رہے۔ایک عرصہ سے دل کے عارضہ میں مبتلا تھے۔آخر ۱۶ رمئی ۱۹۹۲ء کو دل کے حملہ سے ہی وفات پائی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ پہلی بیوی سے ایک بیٹا منصور احمد ساقی اور بیٹی سارہ ہیں جو یہاں لندن میں مختلف جماعتی کاموں یہیں خدمت کی سعادت پر ہے ہیں۔مکرم مسعود احمد صاحب بیلمی مکرم مسعود احمد صاحب جہلمی۔تاریخ وفات ۲۳ اگست ۱۹۹۲ء۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ جن واقفین کا ذکر ہو رہا ہے یہ بہت سے میرے کلاس فیلو بھی رہے ہیں۔مسعود احمد صاحب جہلمی کا مجھے یاد نہیں ہے شاید یہ کلاس فیلو نہ رہے ہوں۔مگر پہلے تھے یہ نہیں تھے۔کیونکہ یہ مجھ سے بہت جونیئر تھے۔آپ مکرم عبدالرحیم صاحب نیا محلہ جہلم کے فرزند تھے۔اپریل ۱۹۳۴ء میں پیدا ہوئے۔۱۹۵۷ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔۱۹۶۰ء میں مربیان کلاس پاس کی ،اس کے بعد بی۔اے اور پھر ۱۹۶۵ء میں ایم۔اے کیا۔جولائی ۱۹۶۰ ء سے آپ نے کام شروع کیا۔آپ کو بیرون ملک نائیجیریا، لائبیریا، انگلستان، سوئٹزر لینڈ اور جرمنی میں خدمات سرانجام دینے کی توفیق ملی۔وفات کے وقت جرمنی میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ہر ابتلاء میں حیرت انگیز صبر و ثبات دکھایا اور اس کا میں خود ذاتی طور پر گواہ ہوں کہ کسی وجہ سے میں ان سے ناراض ہوا اور ان کی جو ترقیات تھیں ساری ختم کر کے ان کو ایک عام شہری کے طور پر وہاں رکھا اور اسی حیثیت سے واقف زندگی کے طور پر خدمت کرنے کا موقع دیا لیکن ایک ذرہ بھی ان کی زبان سے کوئی شکوہ ظاہر نہیں ہوا۔اپنی اولاد کو نصیحت کرتے رہے کہ