شہدائے احمدیت — Page 118
خطبات طاہر بابت شہداء 109 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء تھی۔جو بیٹا کار میں بیٹھا ہوا تھا اسے کچھ نہیں کہا نہ کوئی لوٹ مار کی ہے۔معلوم ہوتا ہے کسی پیسے یا کسی لالچ کی خاطر ایسا کام نہیں کیا گیا۔۱۹ار اگست کو آپ کا جنازہ ربوہ میں ادا کرنے کے بعد بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔مکرم قریشی صاحب کی شادی ۱۹۶۶ء میں ان کی چچازاد محترمہ شمس النساء بیگم صاحبہ بنت قریشی محمد اکمل صاحب کے ساتھ ہوئی تھی۔قریشی صاحب نے اپنی یادگار ایک بیٹا اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔یہ کینیڈا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے آباد ہیں۔مکرم عبدالمالک آدجے صاحب غانا مکرم عبدالمالک آدجے صاحب غانین۔۱۹۶۰ء میں آپ کا تقر رگھانا میں سرکٹ مشنری کے طور پر ہوا۔بڑے پر جوش داعی الی اللہ تھے اور تبلیغ کی خاطر دور دراز علاقوں کا سفر پیدل کیا کرتے تھے۔۱۹۸۶ء میں مجلس انصار اللہ کے اجتماع میں شمولیت کے لئے ابورا (Abura) آئے۔واپس روانگی پر ان کی کار کو ایک گاڑی سے ٹکرانے پر حادثہ پیش آیا جس کے نتیجہ میں آپ جانبر نہ ہو سکے اور ۳۱ /اکتوبر ۱۹۸۶ء کو راہی ملک بقا ہوئے۔آپ کی عمر بوقت وفات چھیالیس سال تھی۔آپ نے اپنے پیچھے دو بیوائیں اور تین بیٹے اور سات بیٹیاں بطور یادگار چھوڑی ہیں۔ساری بیٹیاں شادی شدہ ہیں۔ایک بیٹا تاجر ہے اور دو بیٹے پٹرول سٹیشن پر کام کرتے ہیں۔سارا خاندان خدا کے فضل سے دنیا کے لحاظ سے بھی ٹھیک ہے اور دین کے لحاظ سے بھی۔مکرم مولوی محمد احمد اموسا مینسا صاحب غانا مکرم مولوی محمد احمد امو سا مینسا صاحب غانین۔مولوی محمد احمد اموسا مینسا صاحب جامعہ احمد یہ ربوہ کے فارغ التحصیل تھے اور ۱۹۸۶ء میں شاہد کی ڈگری اور فقہ میں تخصص کرنے کے بعد گھانا واپس تشریف لائے جہاں سنٹرل ریجن میں بطور مرکزی مبلغ مقرر ہوئے۔۱۸ ستمبر ۱۹۸۸ء کو لجنہ اماءاللہ گھانا کے مرکزی اجتماع میں شمولیت کے لئے لجنات کے ساتھ ایک بس میں سوار وا (WA) شہر جارہے تھے کہ بس کا ٹائر پھٹنے کی وجہ سے حادثہ پیش آیا اور مولوی صاحب اسی حادثہ کے نتیجہ میں وفات پاگئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔شہادت کے وقت آپ کی عمر چھتیس برس تھی اور پسماندگان میں ایک بیوہ کے علاوہ ایک بیٹا چھوڑا جو اس وقت سکول میں زیر تعلیم ہے۔-