شہدائے احمدیت — Page 120
خطبات طاہر بابت شہداء 111 خطبہ جمعہ ۴ / جون ۱۹۹۹ء مرکز سے اپنا تعلق فدائیت کا قائم رکھنا۔یہ جو خاص ان کا جذ بہ تھا اس نے میرے دل کو موہ لیا۔آپ ۲۳ را گست ۱۹۹۲ء کو دل کی تکلیف کے باعث جرمنی میں وفات پاگئے۔انا لله و انا اليـــه راجعون۔آپ کی تدفین فرینکفرٹ مشن کے قریب ہی ایک قبرستان میں ہوئی۔انہوں نے اپنی اولاد اور متعلقین کو بھی ہمیشہ یہی نصیحت کی کہ نظام جماعت سے پوری طرح وابستہ رہیں۔ان کی اس وفا کو دیکھ کر ان کی وفات پر میرے دل میں خیال آیا کہ ان کی قبر کے کتبہ پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا یہ مصرعہ لکھنا چاہئے۔ع بے وفاؤں میں نہیں ہوں میں وفاداروں میں ہوں وہ واقعی وفادار تھے۔اسی روز جمعہ کے بعد خاکسار نے ان کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔ان کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔بڑے بیٹے لقمان احمد صاحب واقف زندگی ہیں اور آجکل امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔دوسرے بیٹے سلمان احمد صاحب واشنگٹن میں بطور بینک مینیجر ر کام کر رہے ہیں۔تیسرے بیٹے محمد ذبیح صاحب میری آخری ملاقات تک وہاں پڑھائی کر رہے تھے۔بڑی بیٹی منصورہ اسد شادی شدہ ہیں اور واشنگٹن میں مقیم ہیں، ان کے پھر دو بیٹے ہیں۔دوسری بیٹی قدسیہ مسعود 11th میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔یعنی شہید مرحوم کی دوسری بیٹی قدسیہ ابھی طالبہ علم ہیں۔مکرم مبشر احمد چودھری صاحب مبلغ نائیجیریا مبشر احمد چودھری صاحب مربی سلسلہ کا نو نایجیر یا۔تاریخ شہادت سے اردسمبر ۱۹۹۲ء۔آپ ۱۷ دسمبر ۱۹۹۲ء کو دعوت الی اللہ کے لئے دیگر دوستوں کے ساتھ ایک سفر پر جارہے تھے کہ ان کی کار کھائی میں گر گئی۔مکرم مبشر احمد چودھری صاحب نے موقع پر ہی دم تو ڑ دیا جبکہ دوسرے دو ساتھی زخمی ہو گئے۔ان کے امیر صاحب نے حلفاً گواہی دی کہ ایک سال قبل مکرم مبشر احمد صاحب نے انہیں یہ بات بتائی تھی کہ جب میں ربوہ سے چلنے لگا تو میری بیوی نے خواب دیکھا تھا کہ اس کا خاوند خدمتِ دین کے سفر سے کفن میں لپٹا ہوا واپس آیا ہے۔اب دیکھیں کس طرح احمدیت کی تاریخ میں اللہ تعالیٰ یہ نشانات ظاہر فرماتا ہے۔کوئی جاہل سے جاہل بھی اگر تعصب سے پاک ہو تو غور کرے کہ یہ ساری شہادتیں ہی احمدیت کی پیشگی کی زندگی کی گواہ بن جائیں۔ان کے پسماندگان میں بیوہ مکرمہ امتہ المتین