شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 297

شہدائے احمدیت — Page 3

خطبات طاہر بابت شہداء 3 خطبہ جمعہ ۶ار اپریل ۱۹۹۹ء گئی ہیں اور بھی بہت چیزیں اکٹھی ہوئی ہیں جن کا میں تفصیل سے ذکر کروں گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اولیاء اللہ اور وہ خاص لوگ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں وہ چند دنوں کے بعد پھر زندہ کئے جاتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاج یعنی تم ان کو مردے مت خیال کرو جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں وہ تو زندہ ہیں“۔(تذکرۃ الشہادتین ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۵۷) یہ خدا کی راہ میں جب زندہ کئے جاتے ہیں تو ان کو پھر دوبارہ اس دنیا میں واپس آنے کی تمنا ہوتی ہے جبکہ اور کسی کو جو خدا کے ہاں قرب کا مقام پا جائے جنت میں واپس آنے کا خیال تک نہیں آتا۔اس کی وجہ کیا ہے کہ ان شہداء کا معاملہ اور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک حدیث کے حوالے سے یہ ذکر فرماتے ہیں وہ حدیث ترمذی کتاب الجہاد سے لی گئی ہے، اس کا ایک ٹکڑا میں آپ کے سامنے رکھتے ہوں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔کوئی بندہ بھی جس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور خیر مقدر ہو فوت ہونے کے بعد دوبارہ دنیا میں آنا پسند نہیں کرتا خواہ دنیا و ما فیہا بھی اس کے لئے مقدر ہو۔ساری دنیا کی بادشاہت جو کچھ اس میں ہے اس کے مال و دولت سب کا وعدہ ہو کہ سب تجھے دیئے جائیں گے پھر بھی وہ نہیں آئے گا سوائے شہید کئے۔شہید دوبارہ آنا چاہتا ہے۔شہادت کی فضیلت کی وجہ سے یہ ایسا کرتا ہے۔یہ حدیث میں جس فضیلت کا ذکر ہے اس سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اور یہی مضمون دوسری احادیث میں مزید وضاحت کے ساتھ بھی بیان ہوا ہے۔ایک لمبی حدیث میں سے ایک ٹکڑا میں نے لیا ہے۔جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جن کے والد شہید ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: