شہدائے احمدیت — Page 100
خطبات طاہر بابت شہداء 91 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء حضرت اقدس کی زیارت سے مشرف ہوئے۔آپ کے والد حضرت حکیم غلام محی الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۱۹۰۱ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہو چکے تھے۔آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زیر سایہ بھی تربیت حاصل کی۔آپ موضع چکوال کے رہنے والے تھے۔حضرت حافظ صاحب کو صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں یہ منفر د خصوصیت حاصل ہے کہ آپ اکیس برس تک ماریشس میں جہاد تبلیغ میں سرگرم رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں کسی کو اتنا لمبا عرصہ میدان عمل میں مسلسل تبلیغ کا موقع نہیں ملا جیسے آپ کو ملا۔آپ ۲۷/ جولائی ۱۹۳۸ء کو قادیان سے ماریشس پہنچے اور ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۹ء کو ماریشس ہی میں انتقال فرما گئے اور سینٹ پیری میں سپرد خاک کئے گئے۔آپ کی وفات کی اطلاع پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ۳۰ دسمبر ۱۹۴۹ء کو خطبہ دیا۔اس میں آپ کی وفات کو نشان قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ حافظ جمال احمد صاحب کی وفات اپنے اندر ایک نشان رکھتی ہے اور وہ اس طرح کہ جب وہ ماریشس بھیجے گئے تو جماعت کی مالی حالت بہت کمزور تھی۔اتنی کمزور کہ ہم کسی مبلغ کی آمد و رفت کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔میں نے تحریک کی کہ کوئی دوست اس ملک میں جائیں۔اس پر حافظ صاحب مرحوم نے خود اپنے آپ کو پیش کیا۔“ ( تاریخ احمدیت جلد ۴ صفحہ: ۹۰-۹۱) جو اس سے بھی بڑا نشان ہے وہ وہی ہے جو میں عرض کر چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں سے کسی صحابی کو اتنا لمبا عرصہ میدان جہاد میں تبلیغ کرنے کی توفیق نہیں ملی۔حضرت الحاج مولانا نذیر احمد علی صاحب سیرالیون اب میں حضرت الحاج مولانا نذیر احمد صاحب علی کا ذکر کرتا ہوں۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے اور مخلص صحابی حضرت بابو فقیر علی صاحب ریٹائر ڈ اسٹیشن ماسٹر کے فرزند تھے۔آپ فروری ۱۹۰۵ء کو جمعۃ المبارک کے دن موضع منگل کوٹلی متصل گورداسپور شہر پیدا ہوئے۔آپ کا اصل وطن کوٹلہ چہلاں متصل چھینہ ضلع گورداسپور تھا۔ابتدائی تعلیم مسلم ہائی سکول امرتسر میں حاصل کی۔میٹرک کا امتحان تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے پاس کیا۔اس کے بعد اسلامیہ کالج لاہور میں بی ایس سی تک تعلیم حاصل کی۔آپ نے ۱۹۲۸ء میں زندگی وقف کی اور قادیان آکر زیر ہدایت حضرت