شہدائے احمدیت

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 297

شہدائے احمدیت — Page 99

خطبات طاہر بابت شہداء ge 90 خطبہ جمعہ ۲۸ رمئی ۱۹۹۹ء اور اس لئے بھی کہ مرحوم کا بچپن سے میرے ساتھ خاص تعلق تھا۔پس میں یہ بات بغیر کسی مبالغہ کے کہہ سکتا ہوں کہ مرحوم ایک بہت مخلص اور نیک اور ہونہار اور محبت کرنے والا اور جذبہ خدمت و قربانی سے معمور نو جوان تھا۔دن ہو یا رات، دھوپ ہو یا بارش جب بھی انہیں کوئی ڈیوٹی سپرد کی جاتی تھی وہ کمال مستعدی اور اخلاص کے ساتھ اس ڈیوٹی کو سرانجام دینے کے لئے لبیک، لبیک کہتے ہوئے آگے آجاتے تھے اور پھر اپنے مفوضہ کام کو اس درجہ توجہ اور سمجھ کے ساتھ سرانجام دیتے تھے کہ دل خوش ہو جاتا تھا اور زبان سے بے اختیار دعا نکلتی تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ اسی نیکی کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی زندگی وقف کرنے اور پھر بلا دامریکہ میں وطن سے بارہ ہزار میل دور جا کر فریضہ تبلیغ بجالانے کی سعادت عطا کی۔موت تو ہر انسان کے لئے مقدر ہے مگر مبارک ہے وہ نوجوان جسے یہ سعادت کی زندگی عطا ہوئی اور مبارک ہیں وہ والدین جنہیں خدا نے ایسا نیک اور خادم دین بچہ عطا کیا۔“ (روز نامه الفضل ۱۹ر ستمبر ۱۹۴۸ صفحه ۳۰) خود حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کے متعلق فرمایا ”مرزا منور احمد صاحب جو امریکہ کے مبلغ تھے میری ایک بیوی ام متین کے ماموں ، میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم کے سالے اور نہایت مخلص نوجوان تھے۔ان کے معدہ میں رسولی ہوئی اور وہ فوت ہو گئے۔ویسے تو ہر ایک کوموت آتی ہے لیکن اس طرح کی موت گو ایک طرف قوم کے لئے فخر کا موجب ہوتی ہے لیکن دوسری طرف اس کا افسوس بھی ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو پندرہ بیس سال میں تیار کیا جائے اور وہ جوانی کی حالت میں فوت ہو جائے۔‘ (روز نامہ الفضل ۶ اکتوبر ۱۹۴۸ء صفحه : ۶) یہ جو دوسرا پہلو ہے اسی وجہ سے میں جماعت کے مربیوں وغیرہ کو، واقفین کو تلقین کرتا ہوں کہ خدا کے لئے سفر کرتے وقت پوری احتیاطیں اختیار کیا کریں کیونکہ اگر چہ آپ تو شہادت کا رتبہ پا جاتے ہیں مگر پیچھے رہنے والوں کو یہ دکھ رہتا ہے کہ آپ کو اگر اور زندگی عطا ہوتی اور اور بھی زیادہ خدمت دین میں حصہ لے سکتے تھے۔حضرت حافظ جمال احمد صاحب ماریشس اب تیسرے شہید جن کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں یہ حضرت حافظ جمال احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔یوم شہادت ۲۷ دسمبر ۱۹۴۹ء۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان ممتاز صحابہ میں سے تھے جو عفوان شباب سے حضور کے دامن سے وابستہ ہوئے اور مئی ۱۹۰۸ء میں بمقام لاہور