شہدآء الحق — Page 73
۷۳ ا ڈاکٹر عبدالغنی کو ملی۔ڈاکٹر عبدالغنی خان کا نوجوان لڑکا عبدالجبار شہر کا بل میں سودا لے کر بازار سے گھر جا رہا تھا۔کہ عقب سے کسی نے تلوار مار کر سرتن سے جدا کر دیا۔داغ مرگ پسر کی تیسری سزا تھی۔جو ڈاکٹر کو ملی - امیر امان اللہ خان نے ڈاکٹر کو گیارہ سال بعد جیل سے رہا کر کے ہندوستان کی طرف خارج کر دیا۔یہ چوتھی سزا تھی۔پانچویں سزا یہ ہے۔کہ کہا جاتا ہے کہ اس کا ایک ہی لڑکا ہے اور وہ اب اپنے وطن میں کرایہ پر ٹمٹم چلاتا ہے۔خدا کی شان یا تو ڈاکٹر عبدالغنی کا بل میں مختار کل بنا ہوا تھا۔یا آج کسمپرسی میں زندگی بسر کر رہا ہے۔فاعتبروا یا اولی الابصار - چوتھا پاداش ظلم ( قاضی عبدالرازق ) : امیر حبیب اللہ خاں نے اپنے ایامِ حیات میں حکم دے رکھا تھا۔کہ ہر شخص سڑک پر اور گذرگاہ عامہ پر دست چپ پر جایا کرے۔اور کوئی شخص اس کے خلاف نہ کرے۔کہتے ہیں کہ ایک دن امیر کا بل سڑک پر سے گذر رہے تھے۔دیکھا کہ ملا عبدالرازق خاں ملائے حضور سڑک پر دست راست پر جا رہا ہے۔اور ڈیوٹی والا سپاہی روک۔رہا ہے۔اور وہ منع نہیں ہوتا۔اس پر امیر نے ملا عبدالرازق کو ایک ہزار روپے جرمانہ کر دیا۔بعد ازاں امیر امان اللہ خان نے حاجی عبدالرازق کو کوڑے لگوائے۔اور ۱۹۱۷ء میں روزانہ حاضری کا حکم دیا۔اس سزا کے بعد وہ کابل سے ایسا غائب ہو گیا۔کہ گویا زندہ درگور ہو اب مر چکا ہے۔نا شرحکیم عبد اللطیف شاہد