شہدآء الحق — Page 74
۷۴ گیا کوئی نہیں جانتا۔کہ اس کا کیا حشر ہوا۔البتہ نہ وہ مدارس کی افسری رہی۔اور نہ ملائے حضور کا عہدہ رہا۔جن کی بنا پر اس نے حضرت شہید کے خلاف فتنہ کھڑا کیا تھا۔انی مهین من اراداهانتک پورا ہوا۔تحریر ہے کہ حکومت کابل کے رسالہ تر دید شبہات باطله شاه مخلوع صفحه ۱۵-۱۶ پر ' حاجی عبد الرازق خاں۔ان امتیازات سے جو سابقہ نصیب تھے۔تا دم مرگ محروم نہیں کیا گیا۔لیکن کسی شخص نے امان اللہ کے دہ سالہ سلطنت کے عرصہ میں حاجی صاحب کو امان اللہ کے کسی دربار میں دیکھا۔کیا امان اللہ نے کبھی حاجی صاحب غازی کو دربار یا عیدوں یا جشنوں میں مدعو کیا تھا۔جناب مولا نا فضل ربی نے مولانا حاجی عبدالرازق کے جنازہ پر اپنی تقریر کے دوران میں حاجی صاحب کے خدمات کا ذکر کیا تھا۔اور اس خاص شخصیت کو مسلمانوں کے رہنما اور ملت کے موسس اور مجاہدات کے محرک کا خطاب دیا تھا۔کیا امان اللہ نے اس اظہار پر مولوی فضل ربی کو ماخوذ کر کے قید خانے میں ڈال نہ دیا تھا۔“ ی تھی وہ موت جو حاجی عبدالرازق کو آخری عمر میں نصیب ہوئی۔پانچواں پاداش ظلم ( مولوی نجف علی ) : بزمانہ حکومت اعلیٰ حضرت