شہدآء الحق — Page 72
۷۲ نے اپنی کتاب افغانستان کے صفحہ ۴۵۰ پر کیا ہے۔دوسرا پاداش ظلم ( فتوی کفر ) : امیر حبیب اللہ خان کابل سے سیاحت ہند پر ۱۹۰۷ ء میں آیا۔اور جب وطن واپس لوٹا۔تو جن علماء نے حضرت شہید کو کافر اور مرتد قرار دیا تھا۔ان ہی علماء افغانستان نے خود اُسی امیر کو کافر اور عیسائی اور مرتد قرار دیا۔اور اس کی بد عقیدگی پر نکتہ چینی کی ، اور اس کا چال چلن خراب ظاہر کیا۔اور سمت مشرق میں بغاوت برپا کی۔اور اس طرح امیر کو فتویٰ کفر کا بدلہ بطور جزاء سيئة سيئة مثلها مل گیا - تیسرا پاداش ظلم ( ڈاکٹر عبد الغنی ) : امیر حبیب اللہ خان نے تحریک ڈاکٹر عبدالغنی خان اور اس کے بھائیوں کے کابل میں مجلس شوری ملتی قائم کی۔مگر بہت جلد اس کو علم ہو گیا کہ یہ مجلس شوری نہ صرف اس کے اختیارات کو محدود کرنے والی ہے۔بلکہ اس کی جان لینے کی سازش کر رہی ہے۔چنانچہ اس نے نہ صرف اس مجلس شوری ملی کو توڑا۔بلکہ شرکاء سازش کو گرفتار کر لیا۔اور خود ڈاکٹر عبدالغنی اور اس کے بھائیوں کو گیارہ سال اسیر زندان کر دیا ہے۔اس طرح خدا تعالیٰ نے ان۔۔۔۔کوسزا دی۔جنہوں نے حضرت شہید کو قید و بند دلایا تھا۔اور آخر کا ر شہید کر وا دیا تھا۔یہ پہلی سزا تھی جو ڈاکٹر کو اپنی قید کی ملی - بزمانہ حکومت امیر امان اللہ خان جب کہ ڈاکٹر ہنوز اسیر زندان تھا۔اس کی بیوی کابل سے روانہ وطن ہوئی اور راستہ میں بمقام لنڈی کو تل سرائے میں مرگئی۔اور پبلک نے چندہ کر کے کفن دفن کا انتظام کیا۔یہ دوسری سزا تھی جو ا از مارچ ۱۹۰۹ ء لغایت اپریل ۱۹۱۹ء