شہدآء الحق

by Other Authors

Page 60 of 173

شہدآء الحق — Page 60

۶۰ کر کسی غیر معروف مقام میں دفن کر دیا۔یہ زیارت بمقام سید گاہ ستمبر ۱۹۰۳ء لغایت جنوری ۱۹۱۰ ء تک قائم رہی۔مصلحت خداوندی نے حضرت عیسی اور حضرت علی کی طرح ان کی قبر کو معدوم کر دیا۔تا کہ کسی وقت شرک کا مقام نہ بن جائے۔سردار نصر اللہ خاں کا یہ آخری انتقام تھا۔جو اس نے حضرت شہید مرحوم کی نعش مبارک سے لیا۔خاندان حضرت شہید کی ترکستان کو جلا وطنی : سردار نصر اللہ خاں نے واقعہ شہادت کے معاً بعد حضرت شہید کی جائداد و املاک بحقِ حکومت ضبط کر لیا۔اور ان کے اہل بیت کے عورتوں اور بچوں کو سید گاہ سے کابل کی طرف جلا وطن کیا گیا۔اور وہاں سے مزار شریف ترکستان کو بھیج دیا۔جولائی ۱۹۰۳ء لغایت ۱۹۱۱ء وہاں رہے اور معمولی گذارہ کے واسطے کچھ زمین زرعی دی گئی۔کا بل کو واپسی : اس کے بعد کا بل ان کو آنے کی اجازت دی گئی۔وہاں وہ ۱۹۱۱ ءلغایت ۱۹۲۰ ء تک نہایت تکلیف سے رہے۔رہنے کو ایک معمولی سامکان شہر میں متصل چہار معصوم شور بازار میں کرایہ پر لے رکھا تھا۔اور گذارہ کے واسطے معمولی رقم اور غلہ مقرر تھا۔جو ایک زمین سے حاصل ہوتی۔جو ان کو سرکاری دی گئی تھی۔ترکستان سے امیر حبیب اللہ خان کے حکم سے واپس ہو کر کچھ عرصہ خوست میں رہے۔مگر بہت جلدی سردار نصر اللہ خان نے ان کو واپس کا بل بلایا گیا۔اور اس طرح وطن میں رہنا نصیب نہ ہوا۔کابل میں زیر حراست یا نظر بند رہتے تھے۔یعنی ان کو کہیں کا بل سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔اور روزہ