شہدآء الحق — Page 59
۵۹ سے نکالا۔اور خچر پر باندھ کر اطمینانِ قلب سے اپنے وطن خوست بمقام سید گاہ لے آئے اور ایک پرانے قبرستان میں ایک نمایاں مقام پر دفن کر دیا۔محمد عجب خان صاحب احمدی ساکن زیدہ ضلع پشاور جن کو حضرت شہید سے بمقام جہلم ملنے کا اتفاق ہوا تھا۔اور ان دنوں میرام شاہ وزیرستان میں نائب تحصیلدار تھے جس وقت اس بات کا اُن کو علم ہوا۔تو انہوں نے اپنے خرچ سے ان کے روضہ کو پختہ اور خوبصورت بنوا دیا۔رفتہ رفتہ ملک خوست میں یہ خبر پھیل گئی۔اور ان کے کثیر التعداد معتقدان کے روضہ پر بغرض زیارت آنے لگے اور وہ مقام مرجع خلائق بننے لگا۔اور زیارت گاہ خاص و عام ہو گیا۔اس وقت کے حاکم خوست نے اس بات سے سردار نصر اللہ خاں کو اطلاع دی۔جو نہی اس کو علم ہوا۔تو اس کا جوش آتش بغض سے بھڑک اٹھا۔اور اس نے شاہ خاصی محمد اکبر خاں اے حاکم اعلیٰ خوست سمت جنوبی کو حکم بھیجا۔کہ فوراً فوج کا ایک دستہ لے کر حضرت شہید کے روضہ پر پہنچو اور راتوں رات وہاں سے تابوت حضرت شہید مرحوم نکال کر کسی غیر معروف مقام میں گمنام ونشان کر -22 آغاز ۱۹۱۰ء میں شاہ خاصی مذکور نے یہ تعمیل فرمان نائب السلطنت حضرت شہید کے تابوت کو رات کے اندھیرے اور فوج کی حفاظت میں نکال لے شاہ خاصی محمد اکبر خان گورنر خوست برادر محمد سرور خان نائب الحکومت پسر عطا اللہ خان پسر سردار خوشدل خان پسر سردار مهر دل خان خلف سردار پائندہ خان تھا۔سردار شریندل خان اس کا چچا تھا۔اکتوبر ۱۹۰۹ لغایت مارچ ۱۹۱۳ ء حاکم سمت جنوبی اور گورنر گردیز و خوست رہا۔بغاوت منگل ۱۹۱۵ء کے سبب سے معزول ہو کر زیر حر است کابل کو چالان ہوا اور زیر عتاب رہا۔