شہدآء الحق — Page 61
۶۱ مرہ کو تو الی شہر میں حاضری دی جاتی۔حضرت نورالدین خلیفہ امسیح الاول کے زمانہ خلافت میں ضلع گجرات کا ایک باشندہ فضل کریم نامی مجذوب الاحوال قادیان سے ہوتا ہوا پشا ور ۱۹۱۷ء میں آیا۔اور کچھ دن ہمارے پاس انجمن احمدیہ میں مقیم رہا۔انہی ایام میں برادر عزیز صاحبزادہ محمد عمر جان جو ایک خوبصورت اور نو جوان تھا۔اور عمر اس کی تقریباً بیس سالہ ہوگی۔پشاور آیا اور ہمارے پاس بطور مہمان مقیم رہا۔کچھ دن کے لئے سرائے نورنگ ضلع بنوں کو گیا۔جہاں ان کی زرعی جائداد علاقہ انگریزی میں واقع ہے۔وہاں سے حاصلات زراعت وصول کر کے واپس پشا ور آیا۔اتنے میں کابل سے ایک احمدی دوست حضرت شہید مرحوم کی زوجہ محترمہ کا پیغام لایا۔کہ عزیز محمد عمر جان کو واپس کا بل روانہ کر دیا جائے۔ورنہ ہم کو بڑی مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔اگر چہ برا درموصوف واپس جانے کا خیال نہ رکھتا تھا۔مگر محض والدہ صاحبہ کے تعمیل ارشاد کی غرض سے کا ہل چلا گیا۔فضل کریم مجذوب بھی ایک دن ۱۹۱۷ء میں بلا حصول اجازت مکان انجمن سے نکل کر کو ہاٹ اور کرم کی راہ سے درہ پیواڑ کو عبور کر کے براہ حاجی کا بل میں جا پہنچا۔اور سردار نصر اللہ خاں کو درخواست دی کہ میں احمدی ہوں اور کا بل بغرض تبلیغ آیا ہوں۔سردار موصوف نے اس کو گرفتار کر وا دیا۔حاکم شہر نے دریافت کیا۔کہ تم کسی احمدی سے یہاں واقف ہو۔اس نے کہا ہاں میں حضرت شہید کے بڑے فرزند کو جانتا ہوں۔اور چند اور احمدیوں کا نام لیا۔اور اس طرح سے وہ تمام احمدی بمعہ اولاد حضرت شهید مرحوم دوباره گرفتار