شہدآء الحق — Page 154
۱۵۴ سقہ اور اس کے ساتھی چوروں کو گولیوں سے ہلاک کر کے پھانسی پر لٹکا دیا۔دوم حبیب اللہ بچہ سقہ نے کابل لیا تو اس قدر ظلم کیا اور دست تعدی دراز کیا۔کہ لوگوں کی عزت مال اور جان سب خطرے میں پڑ گئے۔اور ہزارہا نفوس ہلاک ہوئے۔اور دولت اور جائدا دلوٹ لی گئی۔یہاں تک کہ لوگ محمد نادرشاہ کی غیر حاضری از کابل کو سختی سے محسوس کرنے لگے۔اور چلا اٹھے کہ آہ! نادر شاہ کہاں گیا۔سوخدا تعالیٰ نے ان کی درد دل سے نکلی ہوئی دعا کو پورا کیا اور محمد نادر شاہ کو فرانس سے بھیج دیا۔اور محمد نادر شاہ کو بادشاہ بنا دیا۔اور بچہ سقہ کو بمعہ رفقاء نیست و نابود کر دیا۔اور افغانستان کی تباہ شدہ سلطنت اور عزت کو بحال کر دیا۔اور حیرت انگیز طریق پر نہ صرف ضائع شدہ اشیاء کو بحال کیا۔بلکہ پہلے سے زیادہ خوبصورت اور رفیع الشان عمارات ، بازار، پل ، سڑکیں ، تار، ٹیلیفون اور باقاعدہ افواج اور سامانِ جنگ مہیا کر لیا۔سوم تین چار سال کے عرصہ میں جس قدر جلدی ترقی افغانستان نے کی۔افغانان کابل ابھی ان کے نظارہ میں محو تھے۔کہ ایک نمک حرام شخص عبد الخالق نامی نے اعلیٰ حضرت محمد نادر شاہ کو ارک شاہی میں ۸/ نومبر ۱۹۳۳ء کو بوقت تقسیم انعامات پستول سے فائر کر کے شہید کر دیا۔اور افغانستان چشم زدن میں ایک نہایت ہی قیمتی وجود، بہادر جرنیل، دیندار منتظم اور عادل اور ہمدرد بادشاہ کیا بلکہ ایک بے نظیر وجود اور جلیل القدر ہستی کی سر پرستی سے محروم ہو گیا۔اس کے قابل قدر کاموں کو دیکھ کر اس کی گذشتہ خدمات جلیلہ کو دیکھ کر اس کے انتظامات کو دیکھ کر اور اس کی موت کو دیکھ کر ہر باشندہ افغانستان در دِ دل سے پکار اٹھا " آہ ! نادر شاہ کہاں گیا۔“