شہدآء الحق — Page 144
۱۴۴ پڑھا۔مگر انہوں نے اعتبار نہ کیا اور یہ سب کچھ بے سود ثابت ہوا۔( زوالِ غازی صفحه ۳۶۵-۳۸۵) آٹھواں پاداش ظلم : قاضی عبدالرحمن کو ہ دامنی جو کا بل کا مشہور قاضی تھا۔اور جس نے حضرت نعمت اللہ خاں اور باقی شہدا پر فتو کی قتل ورحم دیا تھا۔وہ کوہ دامن کا رہنے والا تھا۔غازی امان اللہ خان کے بعد بھی بچہ سقہ سے لڑتا رہا۔بالآ خر گرفتار ہوا۔اور بچہ سقہ کے پیش ہوا۔جس نے اس کی اعضاء بریدگی کا حکم دیا۔اور اس کو ملک محسن والی شہر کے حوالے کر دیا۔تا کہ سر چوک کا بل اس کے حکم کی تعمیل کرے۔ملک محسن نے جو ہر طرح کے جبر وتشد د وحیلہ و ہنر سے لوگوں سے دولت سمیٹنے کا عادی تھا۔قاضی عبدالرحمن کو دم دلاسہ دیا۔اور تشفی دی۔اور مقررہ قتل گاہ کی طرف لے گیا۔چوک کے پاس فالودہ کی دو کان تھی۔جس میں دونوں داخل ہوئے۔باہر سخت پہرہ تھا۔اور اندر والی اس کی دولت کی تفصیل قلم بند کر نے لگا۔وعدہ یہ کیا کہ اگر قاضی عبد الرحمن اس کو اپنی ساری دولت کا پتہ دے دے گا تو اس کے عوض میں وہ بچہ سقہ سے کہہ کر جان بخشی کرا دے گا۔مگر جب اس کی تمام جائداد منقولہ و غیر منقولہ کی ساری تفصیل قلم بند کر چکا۔تو والی۔اس سے یہ کہہ کر کہ وہ ابھی اس سے بہت کچھ چھپا رہا ہے۔گالی گلوچ پر اتر آیا اور ساتھ ہی اپنے سپاہیوں کو حکم دیا۔کہ فوراً قصاب کو حاضر کریں۔قصاب تو پہلے ہی موجود تھا۔یہ محض دکھاوا تھا۔تا کہ اس کی دھمکی سے متاثر ہو کر اگر کچھ باقی ہو تو وہ بھی لکھا دے۔مگر غالباً کچھ باقی نہ تھا۔اور قاضی اپنی موت سے جو اس کے سامنے کھڑی تھی۔بالکل پروانہ کرتا ہوا مزاحاً والی سے کہنے لگا۔کہ میرے بند بند تو تم نے جدا جدا کاٹنے ہی ہیں مجھے