شہدآء الحق

by Other Authors

Page 143 of 173

شہدآء الحق — Page 143

۱۴۳ دونوں پاؤں میں ڈنڈا بیری ہے۔اور ہاتھ کہنیوں تک پیچھے کسے ہوئے ہیں۔ننگا سر ( زوال غازی صفحہ ۶) آخر شہر سے باہر لے جا کر توپ سے اڑا دیا گیا۔اور تین مظلوموں کے خون کا سودا کر کے جس نے خوست فتح کیا تھا۔آخر ان خونوں کے عوض میں ۹ر جولائی ۱۹۲۹ء کو مارا گیا۔پانچواں پاداش ظلم : جس امیر امان اللہ خاں نے حضرت احمد نبی اللہ کے خدام کا خون نہایت بے دردی سے گرایا تھا۔آخر افغانستان سے خاسرو نا کام ہو کر اس کو نکل جانا پڑا۔( زوال غازی صفحہ ۱۹) اور اپنی انتہائی مایوسی اور حرماں نصیبی کے ہجوم میں اپنے پیارے وطن سے شاید ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گیا - ( زوال غازی صفحہ ۳۰ ) چھٹا یاداش ظلم : امیر حبیب اللہ خان کا ولی عہد سردار عنایت خان ۱۴؍ جنوری کو بادشاہ بنا۔اور ۱۶ / جنوری ۱۹۲۹ء کو معزول ہوا اور اڑھائی دن کا بادشاہ نہایت رنج وغم کے ساتھ کا بل سے خارج ہوا۔اور ایران میں زندگی کے سانس لے رہا ہے۔اور اس کے اپنے خاندان امیر عبدالرحمن کے حکومت کا چراغ ہمیشہ کے واسطے گل ہو گیا۔ساتواں پاداش ظلم : جن علمائے کا بل نے ان شہداء ثلاثہ جماعت احمدیہ پر فتویٰ کفر ور جسم دیا تھا۔انہی علما نے امیر امان اللہ خان کو بھی کافراور عیسائی اور مرتد کہا۔اور اس کے مقابلہ میں بچہ سقہ کو غازی اور مجاہد اور خادم دینِ رسول کا خطاب دیا۔اگر چہ ان کے سامنے امیر امان اللہ خاں نے بارہا۔کلمہ طیبہ