شہدآء الحق

by Other Authors

Page 145 of 173

شہدآء الحق — Page 145

۱۴۵ پیٹ بھر کر فالودہ تو پی لینے دو۔اس کے فالودہ پینے تک سینکڑوں تماشائی باہر جمع ہو چکے تھے۔اور جب باہر لایا گیا تو فرش زمین پر چت لٹا دیا گیا۔تو حیرت ہے کہ اپنی موت کی سختی کا علم ہوتے ہوئے قاضی عبد الرحمن کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔گویا ایسا معلوم ہوتا تھا۔کہ قاضی بدن پر تیل کی مالش کروانے کے لئے - زمین پر لٹا یا گیا ہے۔غرضیکہ جب وہ لیٹ چکا۔تو قصاب ایک آبدار پھر الے کر آگے بڑھا اور ایک ہی حرکت میں اس کا پہلے ایک ہاتھ جدا کر دیا۔اور پھرتی سے دوسرا ہاتھ کاٹ دیا اب وہ پاؤں کی طرف بڑھا۔یکے بعد دیگرے۔دونوں پاؤں کاٹ دیئے۔اور پھر دوسری طرف بڑھا۔اور لنجے ہاتھوں کو کہینوں تک جدا کر دیا۔اور پھر واپس آ کر دونوں ٹانگوں کو رانوں سے بھی اڑا دیا۔ہاتھ کٹ رہے تھے مگر ایک کوہ وقا را ستقامت کے ساتھ ان کے کٹنے کا تماشا دیکھ رہا تھا۔پاؤں جدا ہو چکے تھے۔مگر ابھی تک اس کے لب پر اف تک نہ آئی تھی۔حتی کہ کہنیاں بھی کٹ کر گر گئیں۔مگر اسے جنبش تک نہ ہوئی۔لیکن جب نوبت گھٹنوں پر پہنچی۔تو ضبط اس سے چلا گیا۔اور وہ ماہی بے آب کی طرح زمین پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔اور اس کی چیخیں آسماں تک پہنچ رہی تھیں۔اور خون کے فوارے اس کے بریدہ جسم سے نکل کر چاروں طرف فوجیوں اور تماشائیوں کے دامنوں کو تر کر رہے تھے۔اور ان چیخوں کی ہیبت کے ساتھ مل کر ایک نہایت بھیانک اور محشر آفریں منظر پیش کر رہے تھے۔مگر وہ قسی القب والی (یا عذاب کا فرشتہ ) اس سے متاثر نہ ہوا۔بلکہ چلانے والے کی لوتھ کے سر پر کھڑا ہنس رہا تھا۔اور مخش اور مغلظات سنا رہا تھا ( زوالِ غازی