شہدآء الحق

by Other Authors

Page 136 of 173

شہدآء الحق — Page 136

ان کا سامان مقام معلوم تک پہنچائے جاتے۔آخر میں ۲۶ فروری ۱۹۲۹ء سفارت خانہ برطانیہ کے سفیر سر فرنس اور باقی عملہ پشاور آئے۔کل ۵۸۶ افراد کابل سے پشاور لائے گئے۔انہی میں سردار عنایت اللہ خان اور ان کا بھائی بھی تھا۔واقعہ عبرت : خاکسار نے سردار عنایت اللہ خان کو یا تو اس وقت دیکھا تھا۔جب کہ وہ ۱۹۰۴ء میں کابل سے ہندوستان آیا تھا اس وقت وہ ایک بے ریش و بروت نو جوان تھا یا اب دوبارہ ۱۹۲۹ء میں دیکھا۔کہ وہ ایک درمیانہ قد کا چالیس سالہ مرد تھا جس کی ریش سفید تھی اور فرنچ کٹ تھی۔اور سر پر سفید پگڑی ململ کی باندھی ہوئی تھی جہاز سے اتر کر نہایت حسرت سے آسمان کی طرف سر اٹھا کر نگاہ کی اور سب ساتھی اور حاضرین سُن ہو گئے۔اور سب پر رقت کی حالت طاری ہو گئی۔اور پھر موٹروں میں سوار ہو کر ڈین ہوٹل کا راستہ لیا۔ان کا سامان خاکسار نے میدان طیارہ سے ڈین ہوٹل پہنچا کر سردار عبد العزیز خان وزیر کے سپر د کیا۔حضرت احمد مسیح موعود کا ایک خادم جس کو ان واقعات سے آغاز سے دلچسپی تھی۔خاموش کھڑا اس نظارے کو دیکھ رہا تھا۔کہ خدائے غیور نے کس طرح امیر عبدالرحمن خان کی اولاد کو ان کے ظلم وستم کے باعث عبرتناک سزا دی اور خدائے قدوس کی حمد اور استغفار کر رہا تھا۔اغـرقـنـا ال فرعون و انتم تنظرون کا نظارہ دیکھا۔قیام ایران : چند دن پشاور رہ کر براہ کوئٹہ قندھار روانہ ہوا۔لیکن وہاں بھی