شہدآء الحق

by Other Authors

Page 135 of 173

شہدآء الحق — Page 135

۱۳۵ اس پر بے حد رقت طاری ہو رہی تھی۔اور بالآخر جب اس سے نہ رہا گیا۔تو لوٹ کر دروازے سے چمٹ گیا۔بری طرح رو دیا۔اور جب میدان طیارہ میں پہنچا تو اس وقت بھی اس کی آنکھیں اشکبار تھیں۔سفارت خانہ برطانیہ کے تمام اعضاء ایک سو گوارا نہ نمائش کے ساتھ پہلے سے ہی موجود تھے۔بے شک یہ ایک عجیب سو گوارا نہ منظر تھا۔جو صرف دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔کئی آنکھیں اشکبار تھیں۔اور کئی دل اس دن خون ہورہے تھے۔(زوال غازی صفحہ ۳۰۳) ورود پشاور : خاکسار راقم الحروف ایام ضلع کا بل میں گورنمنٹ ہاؤس پشاور میں عہدہ نظارت پر سرفراز تھا۔اور کابل آنے جانے والے جہازوں پر مقرر تھا۔اور میدان طیارہ پشاور میں مسافروں کے واسطے موٹروں اور لاریوں کا انتظام اور سامان اٹھوانے کا بندوبست کیا کرتا تھا۔جس دن یعنی بروز جمعہ ۱۶ جنوری ۱۹۲۹ء کو جب سردار عنایت اللہ خان پشاور آنے والے تھے۔تو پشاور سے تین بڑے بڑے جہاز کابل روانہ ہوئے۔اور ایک بجے کے قریب واپس آئے اور سردار عنایت اللہ خان بمعہ عیال و ہمراہیاں وسامان آن پہنچے۔خلع کابل : ۲۳ / دسمبر ۱۹۲۸ء کو حکومت برطانیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ کابل سے برطانوی رعایا اور دوسرے ممالک کے باشندے جو کا بل کو بدامنی کی وجہ سے چھوڑ نا چاہیں بذریعہ ہوائی جہاز کابل سے پشاور لائے جائیں گے۔اس غرض کے واسطے عراق سے بڑے جہازات منگوائے اور خاکسار آمد ورفت جہازات پر نگران مقرر ہوا۔ہر روز ۱۰ بجے دو جہاز جاتے اور ا ا بجے کابل پہنچ جاتے۔ایک گھنٹہ رہ کر سوار لے کر واپس ایک بجے پہنچ جاتے وہ سواریاں اور