شہدآء الحق

by Other Authors

Page 137 of 173

شہدآء الحق — Page 137

۱۳۷ نا کام ہو کر واپس بمبئی چلے گئے اور وہاں سے بغداد اور بعدہ طہران ایران چلے گئے اور اب وہاں قیام فرما ہیں۔عزیز ہندی لکھتا ہے۔کہ تین لاکھ روپے بچہ سقہ کی اجازت سے ساتھ لے گیا۔کہتے ہیں۔اس کی بیگم کے بدن پر جو چمڑے کا کوٹ تھا۔اس میں تمام پونڈ اور نوٹ سلے ہوئے تھے۔“ (زوال غازی صفحہ ۳۵۷) حبیب اللہ خان عرف بچہ سقہ کا فاتحانہ ورود کابل : عزیز ہندی لکھتا ہے کہ معین السلطنت کے جانے کے بعد ارک شاہی سے علم خاندان امیر عبد الرحمن اتار دیا گیا اور غلام دستگیر خان قلعہ ہیگی نے اپنے محصور فوجی دستوں کو غیر مسلح کر کے اس انتظار میں تیار بٹھایا تھا کہ ارک کو فاتح کے حوالے کر دے۔خود بچہ سقہ باغ بالا سے ریاست کا بل یعنی گورنری کی جگہ جو ارک شاہی سے بمشکل ایک فرلانگ کے فاصلہ پر ہو گی۔آچکا تھا۔مگر قلعہ شاہی کے قبضہ لینے کا کام سید حسین کے ذمہ کر دیا تھا۔چنانچہ سید حسین کی آمد اور اس کے قلعہ کو تصرف حاصل کرنے کے عبرت آموز نظارہ دیکھنے کے لئے کثیر در کثیر تعداد میں لوگ مشرقی اور جنوبی دروازوں پر جمع ہو رہے تھے۔بالآ خرم بجے شام کے قریب سید حسین بمعہ سٹاف کے آیا۔اور اس نے قلعہ ہیگی سے ارک کو تحویل میں لینے کی کارروائی شروع کر دی۔تھوڑی دیر بعد قلعہ ہیگی نے اپنے غیر مسلح دستہ ہائے فوج کو جمع کیا۔اور با جابجاتا ہوا ارک سے باہر نکل گیا۔وہ خود سیاہ جھنڈیوں کے ساتھ فوج کے سر پر تھا۔اور با چشم زار ر و مال کو آنسوؤں سے تر کر رہا تھا۔ابھی ارک کے جنوبی دروازہ سے چند قدم باہر نکلا ہی تھا۔کہ سب