شہدآء الحق

by Other Authors

Page 134 of 173

شہدآء الحق — Page 134

۱۳۴ برطانیہ برطانوی ہوائی جہاز میں پرواز کر کے پشاور صدر میں نزول فرما ہوا۔اور ڈین ہوٹل میں دم لیا - ۱۶ جنوری ۱۹۲۹ء یوم الجمعہ تھا۔خروج از کابل کا معاہدہ: عزیز ہندی نے واقعات عزل سردار عنایت اللہ خان اس طرح لکھے ہیں۔کہ بالآ خر بچہ سقہ اور سردار عنایت اللہ خان کے ثالثوں کی طرف سے یہ طے پایا۔کہ یک روزہ بادشاہ اپنے اہل و عیال اور متعلقین سمیت مامون ہے۔اگر وہ افغانستان میں رہنا چاہے تو اس کا وہی درجہ اور مرتبہ ہو گا۔جو امان اللہ خان کے عہد میں تھا۔لیکن اگر وہ افغانستان میں نہ رہنا چاہے۔تو وہ بحفاظت تمام ہندوستان کی طرف جا سکتا ہے اس دوسری صورت میں وہ خزانہ سے تین لاکھ روپے سے زیادہ نہیں لے جاسکتا ہے اور اس کی جملہ جائداد جا گیر حکومت سقاوی ضبط نہ کرے گی۔( زوال غازی صفحہ ۳۵۲) عزیز ہندی کہتا ہے کہ سردار عنایت اللہ خان نے یہ فیصلہ کر لیا۔کہ ان لوگوں پر اعتبار مشکل ہے۔اور یہی بہتر ہوگا۔کہ بال بچوں سمیت جان بچا کر افغانستان سے نکل جاوے اور اسی غرض سے انگریزی سفارت خانہ سے استمداد کی۔سفیر برطانیہ نے ہوائی جہاز کا انتظام کر دیا۔معین السلطنت سردار عنایت اللہ خان تیسرے دن ۱۶ / جنوری ۱۹۲۹ء کو ارک شاہی سے نکل کر دس بجے صبح میدان طیارہ کا بل میں جا پہنچا۔اور بہ اجازت سفیر برطانیہ ہوائی جہاز میں سوار ہو کر پشاور کے میدان طیارہ میں آن پہنچا۔سردار عنایت اللہ خان کا اضطرار : عزیز ہندی لکھتا ہے کہ جب معین السلطنت نے ارک شاہی کے پچھلے دروازہ سے قدم باہر رکھا۔تو فرط الم سے