شہدآء الحق

by Other Authors

Page 129 of 173

شہدآء الحق — Page 129

۱۲۹ ۲۸ / دسمبر ۱۹۲۸ء کو امیر امان اللہ خان پر جو گھبراہٹ کی حالت تھی۔اس کے بارے میں عزیز ہندی لکھتا ہے۔کہ امیر امان اللہ خان بہادر تو ضرور تھا مگر صاحب تہور نہ تھا۔اے کاش کہ وہ بہادری کے ساتھ صفت تہوری سے بھی آشنا ہوتا۔تو یقیناً افغانستان کا تاج و تخت ابھی تک اس کے سر کا زیب وزینت ہوتا۔پھر کہتا ہے۔کہ غازی امان اللہ خان میں جو ہر تہور کی کمی نے آخری شکست کے فوری اثر سے نجات پانے کی مہلت نہ دی۔واقعات کی رفتار تیزی سے اپنے خلاف پا کر اس کی رہی سہی کمر ہمت بھی ٹوٹ گئی۔غازی امیر امان اللہ خاں کا فرار : عزیز ہندی لکھتا ہے۔کہ اس وقت جو اس کے دل و دماغ پر خیالات چھائے ہوئے تھے۔کہ سمت شمالی کے باغی کل تک کابل کی چار دیواری کے نیچے پہنچ جاویں گے۔میری فوج میری طرف سے بالکل نہیں لڑتی۔پھر اگر وہ کل ہی کابل پہنچ جاویں تو میرا کیا حشر ہوگا۔مجھے وہ گرفتار کرتے ہی مار دیں گے مجھے ضرور جان بچا کر فوراً ہی نکل جانا چاہیئے۔آہ ! مگر کس طرف جان بچا کر جاؤں۔سمت شمالی باغی سمت مشرقی باغی - سمت جنوبی اسے بھی باغی ہی سمجھو۔ترکستان آہ ! مگر میں تو اپنے بال بچوں کو قندھار بھیج چکا ہوں۔میرے ترکستان کی طرف نکل جانے سے نہ معلوم ان کا کیا حشر ہوگا۔اور یقینا رہی سہی ہمدردی جو قندھاریوں کو بوجہ ہم قومی کے مجھ سے ہو سکتی ہے وہ بھی نہ رہے گی۔اس سے قطع نظر ترکستان میں جا کر کیا کروں گا۔وہاں تمام غیر افغان قو میں رہتی ہیں۔مجھ کو بھگوڑا سمجھ کر کیا معلوم کس قسم کا سلوک کریں نہیں نہیں مجھے ایسی دور دراز جگہ نہ جانا چاہئیے۔اور پھر وہاں پہنچ بھی کیسے