شہدآء الحق

by Other Authors

Page 128 of 173

شہدآء الحق — Page 128

۱۲۸ آثار بغاوت شنواری انہی ایام میں سمت مشرقی علاقہ جلال آباد میں شنواری لوگوں نے افغان لڑکیوں کے یورپ کو روانگی بغرض تعلیم کو بُرا منایا۔اور بغاوت برپا کر دی۔اور رفتہ رفتہ سمت مشرقی اور سمت مغربی میں کامل بغاوت کا اثر پھیلنے لگا۔(دیکھو زوال غازی صفحہ ۲۰۸) سمت جنوبی تو پہلے ہی سے مشتعل ہو رہا تھا۔وو بچہ سقہ کا کا بل پر حملہ : ان باتوں کو سن کر حبیب اللہ ( بچہ سقہ ) اور بھی دلیر ہوا۔اور سید حسین کو ساتھ لے کر اکتوبر ۱۹۲۸ء میں کا بل پر چڑھائی کی غرض سے روانہ ہوا۔اور تین چارسو راہزن ساتھ تھے۔پہلے باغ بالا میں اور پھر وہاں سے وہ افغاناں تک جا پہنچا۔جو شہر کابل کا ہی ایک حصہ ہے۔اور افواج سرکاری بمشکل اس کو پسپا کر سکیں۔جشن پغمان ۱۹۲۸ء کے بعد تو شہر کا بل کے باشندے اور وزراء اور امراء سب امیر اللہ خان سے بگڑے ہوئے تھے اور اس سے بیزار ہو رہے تھے۔اس واسطے حبیب اللہ کو یہ ایک زریں موقع ہاتھ آ گیا۔اور امیر امان اللہ خاں کے مخالف فریق نے اس کو امیر حبیب اللہ خادم دین رسول اللہ اور غازی اور مجاہد کے خطابات دے دئے ( زوال غازی صفحہ ۲۷۱) جس سے حبیب اللہ کے حو صلے اور بھی بڑھ گئے۔اور ۳ / دسمبر ۱۹۲۸ء کے بعد اس نے برابر حملوں پر حملے شروع کر دئے۔جس کی تفصیل عزیز ہندی نے زوال غازی صفحات ۲۱۷ لغایت ۳۴۰ تک دی ہے۔افواج امانیہ نے جو مدافعت کی ہے۔اس کے حالات بھی دلچسپ پیرا یہ میں لکھے ہیں۔جو قابل دید اور لائق عبرت ہیں۔امیر امان اللہ خان کا تہور: بچہ سقہ کے حملوں کے وقت