شہدآء الحق

by Other Authors

Page 130 of 173

شہدآء الحق — Page 130

۱۳۰ سکتا ہوں۔اگر غیر از سمت شمالی دوسری راہ بھی اختیار کروں۔تو موٹر کی راہ اس طرف بھی نہیں ہے۔ہوائی جہاز - آہ! یہ میرے لئے خاص کر پُر خطر کھیل ہے ہاں ہاں بس یہی سواری ٹھیک ہے۔تو پھر کیا قندھار کا رُخ کروں بے شک ! بے شک وہیں !! آج سارے افغانستان میں امان اللہ خان کے لئے بجز اس کے اور کوئی جگہ پناہ کی نہیں ہے۔مگر غزنی اور قندھار کا راستہ مسدود ہو چکا ہے۔اور اس کی مجھے پرواہ نہیں کرنی چاہئیے برفوں کو ہٹا کر راستہ بنایا جا سکتا ہے۔تو پھر کیا ابھی چل دوں۔نہیں نہیں صبح ہونے تک انتظار کرنا پڑے گا۔اور ارغندی تک تمام فوجیں ہی فوجیں ہیں۔مجھے دیکھ کر شک نہ کر لیں۔اور بچہ سقہ کی بجائے وہی میری مشکیں نہ کس لیں۔( زوال غازی صفحہ ۳۲۵) کابل میں آخری رات: اس رات ان خیالات کی موجوں کی آغوش میں غازی امان اللہ خان کے عروج و اقبال کا ستارہ غروب اور فنا ہو رہا تھا۔اس نے اس رات ایک لمحہ بھی آرام نہیں کیا۔بلکہ اپنے بھائی سردار عنایت اللہ خان معین السلطنت کو اس وقت اپنے پاس بلا کر اپنا عند یہ اس سے ظاہر کیا۔اور بکمال منت والحاح اس بات پر راضی کیا۔کہ وہ ایسے نازک وقت میں افغانستان کی بادشاہت قبول کر لے۔( زوال غازی صفحه ۳۳۶ - ۳۳۷) ۱۴ جنوری ۱۹۲۹ء کو امان اللہ خان نے خلع تخت و تاج کر دیا۔غازی امان اللہ کا فرار : عزیز ہندی کہتا ہے۔کہ نہ معلوم اس رات