شہدآء الحق — Page 125
۱۲۵ -۱۲ ہیں۔اور میرا قانون ہر طرح ان کی حفاظت کرنے کے لئے تیار ہے۔اور وہ عدالت سے ظالم شوہروں سے طلاق حاصل کر سکتی ہیں۔( زوال غازی صفحه ۶۸-۶۹) ملکہ ثریا کے بارے میں مشہور ہو چکا تھا۔کہ ان کی لونڈی سے قرآن کریم گر گیا۔اور اس نے اٹھا کر چوما۔تو ملکہ ثریا نے کہا۔کہ یہ پرانی کتاب کے اوراق ہیں۔ان کو کیا چومتی ہو۔دنیا میں اس سے بہتر کتابیں موجود ہیں۔یہ باتیں بھول جاؤ اور انسانیت سیکھو۔( زوال غازی صفحہ ۷۰ ) ۱۳ - بادشاہ عند الملاقات نمائندگان وطن اور علماء سے ملے۔تو انگریزی لباس زیب تن تھا۔اور سر پر سے ہیٹ اتار کر بغیر سلام علیکم کہنے کے یورپین طرز سے ملاقات شروع کی اور مصافحہ کرتے چلے گئے۔اور جس وقت ملا چکنور کے صاحب سے مصافحہ کیا۔جو افغانان سرحد کا مشہور رہنما اور عالم اور پیشوا تھا تو اس کے ہاتھ میں تسبیح تھی۔بادشاہ نے اس کو کہا کہ یہ کیا اونٹ کی لینڈ نیوں سے کھیل رہے ہو۔کسی نے کہا۔کہ حضور یہ تو ملا صاحب چکنور تھے۔تو امیر امان اللہ خان نے ترش رو ہو کر کہا۔کہ کوئی بھی خرس ( ریچھ ) ہو فکر نہیں۔ہم ان کو درست کریں گے۔( زوال غازی صفحہ ۴۲ ) لا اخوند زاده امیرمحمد معروف به چکنور ملا صاحب شاگر دسید احمد ملا صاحب ساکن چارمنگ جس کا بڑا اثر قبائل مہمند اور جلال آباد پر تھا۔مسٹر رولینڈ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ امان اللہ خان کے خلاف بغاوت کے اصل بانی ملا چکنور صاحب ہی تھے