شہدآء الحق — Page 124
۱۲۴ -A -9 - 1+ 11- دیا - ( زوال غازی صفحه ۶۲-۶۳) اگر چہ قرآن کریم نے عند الضرورت چار تک نکاح کرنے کا حق ایک مسلم کو دیا ہے۔مگر امیر امان اللہ خان نے بہ تقلید یورپ صرف ایک بیوی ا ر کھنے کا حکم دے دیا۔اور بقایا کو طلاق دینے پر اصرار کیا - ( زوال غازی صفحه ۶۳ - ۶۴) ملک میں عام افواہ پھیل گئی۔کہ امیر امان اللہ خاں سید نا حضرت محمد کو خدا تعالیٰ کا نبی اور رسول نہیں مانتا۔اور قرآن کریم کو ان کا خود ساختہ کلام کہتا ہے۔( زوال غازی صفحہ ۷۰ ) ملک میں یہ افواہ بھی تھی۔کہ بوقت سیاحت اطالیہ امیر امان اللہ خان۔پوپ آف روم کے ہاتھ پر اسلام سے مرتد ہو کر عیسائی ہو چکا ہے۔اور ایڈیٹر اخبار احسان لاہور آقا مرتضی احمد خان نے تو یہاں تک پتہ لگایا۔کہ امیر امان اللہ خاں کا عیسائی نام جارج تھا اہل ملک نے صاف کہہ دیا۔کہ وہ خائن اور غدار ہے اس کے کفر میں شبہ نہیں۔دیکھو اخبارا حسان لاہور مورخه ۱۲ / فروری ۱۹۳۵ء جلد نمبر ۱۴۱) بادشاہ نے اپنی تقریر میں کہا۔کہ دور قدیم ( پا بندی شریعت ) ختم ہو چکا ہے اور دور جدید ( آزادی از مذہب) شروع ہو چکا ہے۔ملک کی لڑکیوں کو مما لک یورپ میں بغرض تعلیم بھیجتا ہوں - ایک۔ނ زائد بیویاں نہ ہوں گی۔میری حکومت میں عورتیں آج سے آزاد ا خود دوسری بیوی خفیہ طور پر رکھی ہوئی تھی۔جسے بھاگتے وقت طلاق دے گیا۔جیسے بہاء اللہ نے دو بیویاں کیں۔لیکن یورپ میں ایک بیوی رکھنے کا عقیدہ ظاہر کیا۔