شہدآء الحق

by Other Authors

Page 126 of 173

شہدآء الحق — Page 126

سبحان اللہ کیا عجیب بات ہے۔کہ جن علما کے فتوؤں سے ڈر کر امیر امان اللہ خان نے مظلوم اور بے گناہ احمدیان کابل کو کافر اور مرتد کہا۔اور ان کو سزائے قتل و رحم دی۔آج ان علماء کو خودامان اللہ خان کیا کہ رہا ہے۔اور وہ امیر امان اللہ خان کو کیا فتویٰ سنا رہے ہیں۔سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا خوب فرمایا کہ من قال لا خيه كافر فقد باء باحد هما یعنی جس نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا۔تو دونوں میں سے ایک ضرور کا فر ہو جاتا ہے۔پس امیر نے مظلوم احمدیوں کو کافر اور مرتد کہا تھا۔اور آج اس کو خود ہر ایک کافر اور مرتد قرار دیتا ہےصدق الله و رسوله فصل ششم حبیب اللہ خان عرف بچہ سقہ کا خروج اور امیر امان اللہ خان کا فرار حبیب اللہ عرف بچہ سقہ : کابل سے بجانب ترکستان غالبا ہیں میل کے فاصلہ پر علاقہ کوہ دامن میں ایک قصبہ آباد ہے۔جس کو خواجہ سرائے کہتے ہیں۔اسی قصبہ کا حبیب اللہ خان اعرف بچہ سقہ ولد عبدالرحمن باشندہ تھا۔جو بغاوت منگل کے ایام میں اس خاص فوج میں کپتان تھا۔جو بغاوت فرو کرنے کے ا بعض نے لکھا ہے۔کہ حبیب اللہ ولد کریم اللہ ولد عظیم اللہ ہے۔اس کا والد کریم سقہ کا کام کرتا تھا۔اس واسطے بچہ سقہ کہلایا۔یہ بچہ سقہ ساکن کل کان تھا۔جو خواجہ سرائے کے پاس گاؤں ہے۔