شہدآء الحق

by Other Authors

Page 123 of 173

شہدآء الحق — Page 123

ان کے کان بھر دیئے۔اور ان کو خوب پڑھایا۔کہ جشن میں لوئی جرگہ کے وقت تو بادشاہ کی ہاں میں ہاں ملا دو۔مگر واپسی پر اپنے علاقہ کے لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کر دو۔چنانچہ ان نمائندگان نے واپسی پر رعیت کو بادشاہ کے خلاف خوب مشتعل کیا۔جس کا نتیجہ وہ بغاوت ہوئی۔جس نے بادشاہ کو تخت و تاج سے محروم کر دیا۔زوال غازی صفحه ۴۵ - ۴۶ - ۵۵) اعلیحضرت امیر نے جلتی پر خود تیل ڈالا۔کہ جب نمائندگان ملک پغمان میں موجود تھے۔تو حکم دے دیا۔کہ عورتیں برقعہ اور دولاق کو ترک کر دیں۔اور مکتبی برقعہ پہننا شروع کر دیں۔اور اپنے خاندان اور اپنے امراء کی مستورات کو یوروپین لباس میں لوگوں کے سامنے بے پردہ باغات اور سیرگاہ کے پغمان میں برہنہ رُو پھرنے کی اجازت یا حکم دے دیا۔( زوال غازی صفحہ ۵۶) عام لوگوں کو حکم مل چکا تھا۔کہ وہ انگریزی لباس اور ہیٹ کا استعمال کریں اور جو نہ پہنتا۔اس کو جرمانہ کر کے وصول کیا جاوے۔( زوال غازی صفحہ ۵۷ ) بیرق یعنی علم افغانستان۔جس پر مسجد محراب اور منبر کی تصویر کا نقش ہوتا ہے۔اس کے ترک کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔نمائندگان نے کہا کہ ہمارا ملک اسلامی ہے۔آخر جھنڈا پر کچھ تو علامات اسلامی ہونی ضروری ہیں۔تو اللہ اور محمد کے نام ہی سہی۔امیر امان اللہ خان نے بصد اصرار و لجاجت اللہ کا نام منظور کیا۔مگر محمدؐ کے نام سے انکار کر -1