شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 181
ساتھ لے جاتے تھے اور راستے میں مختلف دعائیں پڑھتے رہتے تھے اور اونچی آواز میں اور بار بار پڑھتے تھے کہ ہمیں بھی دعائیں یاد ہو جائیں، اور ہمیں ان سے یاد ہو گئیں اور پھر صرف دعائیں یاد ہی نہیں کروا ئیں بلکہ یہ بھی کہ کس موقع پر کون سی دعا کرنی ہے؟ تو یہ تھے وہ جانیں قربان کرنے والوں کے اپنی اولاد کے لئے تربیت کے اسلوب۔پھر نو جوان تھے ، جن کے والدین بفضلہ تعالیٰ حیات ہیں۔ان کے حقوق بھی ہمہ وقت ان جوان شہیدوں نے ادا کئے۔والدین بیمار ہیں تو رات دن ان کی خدمت میں ایک کر دیئے۔خدا تعالیٰ کے حکم کہ والدین سے حسنِ سلوک کرو اور ان کی کسی سخت بات پر بھی اُف کا کلمہ منہ سے نہ نکالو۔اس کا حق ادا کر دیا ان لوگوں نے۔پھر بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ شادی شدہ جوان اگر ماں باپ کا حق ادا کر رہے ہیں تو بیوی کا حق بھول جاتے ہیں، اگر بیوی کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ ہے تو ماں باپ کا حق بھول جاتے ہیں۔لیکن ان مومنوں نے تو مومن ہونے کا اس بارے میں بھی حق ادا کر دیا۔بیویاں کہہ رہی ہیں کہ والدین کے حق کے ساتھ ہمارا اس قدر خیال رکھا کہ کبھی خیال ہی دل میں پیدا نہیں ہونے دیا کہ ہماری حق تلفی تو کجا ہلکی سی جذباتی تکلیف بھی پہنچائی ہو۔اور ماں باپ کہہ رہے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے حق ادا کرنے کی کوشش میں کہیں بیوی کے حق کی ادائیگی میں کمی نہ کی ہو۔پس یہ اعتماد اور یہ حقوق کی ادائیگی ہے جوحسین معاشرے کے قیام اور اپنی زندگی کو بھی جنت نظیر بنانے کے لئے ان لوگوں نے قائم کیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے بھی کتنا بڑا اجر عطا فرمایا کہ دائی زندگی کی ضمانت دے دی۔17 ،18 سال کا نوجوان ہے تو اس کی طبیعت کے بارے میں بھی ماں باپ اور قریبی تعلق رکھنے والے، بلکہ جس کا لج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ نو جوان، کر رہے تھے ، ان سب کی رائے یہ ہے کہ یہ عجیب منفرد قسم کا اور منفر د مزاج کا بچہ تھا پھر ان سب میں ایک ایسی قدرے مشترک ہے جو نمایاں ہوکر چمک رہی ہے۔اور وہ ہے جماعتی غیرت کا بے مثال اظہار۔اطاعت نظام کا غیر معمولی نمونہ ، جماعت کے لئے وقت قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا اور کرنا ، دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے سارے حقوق کی ادائیگی کے باوجود ساری ذمہ داریاں کے 181