شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 180
بعض دفعہ مرد باہر تو اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک نہیں کر رہے ہوتے۔ایک شادی شدہ مرد کی سب سے بڑی گواہ تو اس کی بیوی ہے۔اگر بیوی کی گواہی اپنے خاوند کی عبادتوں اور حسنِ سلوک کے بارے میں خاوند کے حق میں ہو تو یقیناً یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ شخص اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والا تھا۔پھر ان شہداء کے حسنِ اخلاق کی گواہی صرف بیوی نہیں دے رہی بلکہ معاشرے میں ہر فر د جس کا ان سے تعلق تھا ان کے حسنِ اخلاق کا گواہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو حقوق العباد کی ادائیگی نہیں کرتا، بیوی بچوں اور عزیزوں کے حق ادا نہیں کرتا ، وہ خدا تعالیٰ کے حق بھی ادا نہیں کرتا۔اگر وہ بظاہر نمازیں پڑھنے والا ہے بھی تو حقوق العباد ادا نہ کرنے کی وجہ سے اس کی عبادتیں رائیگاں چلی جاتی ہیں۔پس یہ شہداء جو شہادت کے مقام پر پہنچے یقینا یہ شہادت کا رتبہ ان کے لئے عبادتوں کی قبولیت اور حقوق العباد کی ادائیگی کا حق ادا کرنے کی سند لئے ہوئے ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں که صرف اپنی عبادتوں اور حسنِ اخلاق پر ہی ان لوگوں نے بس نہیں کی بلکہ اپنی ذمہ داریوں کی جزئیات کو بھی نبھایا۔ایک باپ اپنے گھر کا راعی ہے اور بچوں کی تعلیم و تربیت اور نگرانی اس کی ذمہ داری ہے تو ان لوگوں نے اس فریضے کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دی ، اور یہ توجہ ہمیں ہر شہید میں مشترک نظر آتی ہے۔اس قرآنی حکم کو انہوں نے اپنے پیش نظر رکھا کہ وَلَا تَقْتُلُوْا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ - کہ تم مفلسی کے خوف سے اولا د و قتل نہ کرو۔اپنے کاروباروں میں اس قدر محو نہ ہو جاؤ کہ یہ خیال ہی نہ رہے کہ اولاد کی تربیت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔یہ لوگ اپنے اس عہد کو بھولے نہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔اور اس عہد کی پاسداری کی خاطر انہوں نے اپنے کاموں کی جگہوں سے فون کر کر کے گھر میں بیوی کو یاد کروایا کہ بچوں کو نماز پڑھوا دو۔کہ دین کو مقدم کرنے کی ابتداء تو نمازوں سے ہی ہوتی ہے۔ایک بچی نے باپ کی تربیت کا یہ اسلوب بتایا کہ لمبے تفریحی سفر پر ہمارے ابا ہمیں 180