شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 182 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 182

حقوق کی ادائیگی کے باوجود جماعت کے لئے وقت نکالنا۔اور صرف ہنگامی حالت میں ہی نہیں بلکہ عام حالات میں بھی کئی کئی گھنٹے وقت دینا۔اور بعض اوقات کھانے پینے کا بھی ہوش نہ رہنا۔اور پھر یہ کہ خلافت سے غیر معمولی تعلق ، محبت اور اطاعت کا اظہار۔یہ اظہار کیوں تھا؟ اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مسیح موعود اور مہدی موعود کے بعد جو دائمی خلافت کا سلسلہ چلنا ہے اس نے مومنین کے جذبہ وفا اور اطاعت اور خلافت کے لئے دعاؤں سے ہی دائمی ہونا ہے۔پس یہ لوگ تھے جنہوں نے عبادات اور اعمالِ صالحہ کے ذریعے سے نظام خلافت کو دائمی رکھنے کے لئے آخر دم تک کوشش کی۔اور اس میں نہ صرف سرخرو ہوئے ، بلکہ اس کے اعلیٰ ترین معیار بھی قائم کئے۔یہ لوگ اپنے اپنے دائرے میں خلافت کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔یہ سلطان نصیر تھے خلافت کے لئے جن کے لئے خلیفہ وقت دعا کرتا رہتا ہے کہ مجھے عطا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند فرماتا رہے۔اپنے پیاروں کے قرب سے ان کو نوازے۔یہ شہدا ء تو اپنا مقام پاگئے ، مگر ہمیں بھی ان قربانیوں کے ذریعے سے یہ توجہ دلا گئے ہیں کہ اے میرے پیارو! میرے عزیزو! میرے بھائیو! میرے بیٹو! میرے بچو! میری ماؤں! میری بہنو! اور میری بیٹیو! ہم نے تو صحابہ کے نمونے پر چلتے ہوئے اپنے عہد بیعت کو نبھایا ہے مگر تم سے جاتے وقت یہ آخری خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ نیکیوں اور وفا کی مثالوں کو ہمیشہ قائم رکھنا۔بعض مردوں نے اور عورتوں نے مجھے خط بھی لکھے ہیں کہ آپ آج کل شہداء کا ذکر خیر کر رہے ہیں ان کے واقعات سن کر رشک بھی آتا ہے کہ کیسی کیسی نیکیاں کرنے والے اور وفا کے دیپ جلانے والے وہ لوگ تھے۔اور پھر شرم بھی آتی ہے کہ ہم ان معیاروں پر نہیں پہنچ رہے۔ان کے واقعات سن کر افسوس اور غم کی حالت پہلے سے بڑھ جاتی ہے کہ کیسے کیسے ہیرے ہم سے جدا ہو گئے۔یہ احساس اور سوچ جو ہے بڑی اچھی بات ہے۔لیکن آگے بڑھنے والی قو میں صرف احساس پیدا کرنے کو کافی نہیں سمجھتیں بلکہ ان نیکیوں کو جاری رکھنے کے لئے پیچھے رہنے والا ہر فرد جانے والوں کی خواہشات اور قربانیوں کے مقصد 182