شہدائے لاہور کا ذکر خیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 243

شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 100

تھے۔ہجرت کے بعد تخت ہزارہ ضلع سرگودھا میں آباد ہوئے۔خاندان لاہور میں مقیم تھا۔شہادت کے وقت ان کی عمر 37 سال تھی۔مسجد بیت النور ماڈل ٹاؤن میں شہید ہوئے۔سانحہ کے روز کام سے سیدھے جمعہ پڑھنے چلے گئے۔مسجد بیت النور میں ان کے پہنچنے سے پہلے مسجد میں فائرنگ شروع ہو چکی تھی۔دو دہشتگر دجوموٹر سائیکل پر ماڈل ٹاؤن آئے تھے، اپنی موٹر سائیکل پھینک کر گیٹ پر فائرنگ کرتے ہوئے داخل ہو گئے تھے۔چند سیکنڈ بعد موٹر سائیکل پھٹ گیا۔یہ اس کے قریب تھے اس کی وجہ سے ان کو آگ لگ گئی اور جسم جھلس گیا۔آٹھ دن یہ ہسپتال میں رہے ہیں لیکن جانبر نہ ہو سکے اور 5 جون کو جام شہادت نوش کیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔شہادت سے ایک دن پہلے انہوں نے اپنی بہن کو گاؤں فون کیا کہ گوشت کی دیگ پکوا کر تقسیم کر دو۔خواب دیکھی تھی انہوں نے ، بہر حال اللہ تعالیٰ کی یہی تقدیرتھی، اور پھر جمعہ والے دن بچوں کو پیار کیا اور جلدی جلدی تیار ہو کر کام کے لئے نکل گئے اور اس کے بعد پھر جمعہ پڑھنے مسجد نور چلے گئے۔مرحوم کی بیوہ نے چند ڈائریاں دکھائی ہیں جن میں کئی مقامات پر یہ لکھا تھا کہ شہادت میری آرزو ہے۔انشاء اللہ۔ڈائری میں ایک اور جگہ تحریر ہے کہ اے اللہ ! شہادت نصیب فرما۔یہ گردن تیری راہ میں کئے۔میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے تیری راہ میں ہو دیں۔پیارے حبیب کے صدقے میرے مولی میری یہ دعا قبول فرما۔آمین۔اللہ تعالیٰ نے دعا قبول بھی کر لی۔30 نومبر 2000 ء کو انہوں نے یہ الفاظ لکھے تھے ڈائری کے۔ڈائری میں نمازوں کی ادائیگی ، جمعہ کی ادائیگی ، خطبہ جمعہ کا مختصر خلاصہ اور نوٹس ، چندہ جات کی باقاعدہ ادائیگی کا جابجاذ کر ملتا ہے۔اور تخت ہزارہ کے چونکہ رہنے والے تھے، وہاں کچھ سال پہلے چار پانچ شہید ہوئے تھے ان کے لئے دعا کی تحریک کا بھی ذکر ملتا ہے۔والدین اور رشتے داروں کے حقوق کا بہت خیال رکھتے تھے۔غرباء کو صدقہ دیتے تھے۔بہت ہنس مکھ تھے ، بہت پیار کرنے والے تھے۔ماں باپ، بہن بھائی ، اہلیہ کا سب کا خیال رکھتے تھے۔ایک ڈبہ رکھا ہوا تھا انہوں نے جس میں روزانہ کچھ رقم ڈال دیتے تھے۔اور جب گاؤں جاتے تھے تو وہاں مستحقین میں تقسیم کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے 100