شہدائے لاہور کا ذکر خیر — Page 99
اعتراض کر رہی ہے نہ آپ لوگ کیوں نہیں اسلحہ لے کر بیٹھے ہوئے تھے۔یہ غیر احمدیوں کا مقام ہے کہ وہ لے کر بیٹھ سکتے ہیں لیکن احمدی نہیں۔یا پولیس بالکل ہاتھ اٹھالے اور کہہ دے کہ اپنی حفاظت کا خود انتظام کریں۔بہر حال مسلسل موقع کی تلاش میں رہے کہ دہشتگر دکو پکڑیں۔بالآ خر موقع پا کر نہایت بہادری سے دہشتگر دکو پکڑا جس کی وجہ سے دہشتگرد نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑالیا۔دھماکے کی وجہ سے یہ بھی شہید ہو گئے۔ان کو شروع میں معلوم ہو چکا تھا کہ ان کے بھائی مکرم انیس احمد صاحب شہید ہو چکے ہیں۔لیکن اس کے باوجود بڑی بہادری سے لوگوں کی مدد کرتے رہے۔ان کے گھر بڑے عرصے سے باہر منافرت پھیلانے والے اشتہارات اور پوسٹر چسپاں تھے۔اس سے پہلے بھی غیر از جماعت انتشار پسند ایسی کارروائیاں کرتے رہتے تھے بچوں کے ذریعے سے ہی کام کرواتے ہیں۔لیکن شہید مرحوم نے پوسٹر لگانے والے بچوں کو بڑے پیار اور اخلاق سے سمجھایا اور بچوں کو اثر بھی ہو گیا ان کو سمجھ بھی آگئی۔لیکن پھر وہ بڑوں کے کہنے پر مجبور تھے ، لگا جایا کرتے تھے۔ان کے ناظم اصلاح وارشاد صاحب ضلع منور احمد صاحب نے بتایا کہ سانحہ سے تقریباً ایک ڈیڑھ ماہ قبل انہوں نے اپنی ایک خواب مجھے بتائی۔خواب میں ان کی وفات یافتہ والدہ ملی ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ میں نے تمہارا کمرہ تیار کر لیا ہے، میں تمہیں بلالوں گی۔حافظ مظفر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ اپنے عزیزوں کو پہلے ہی بتا دیا تھا بلکہ شادی ہوئی ہے پچھلے سال ، تو اپنی بیوی کو بھی پہلے دن ہی کہہ دیا کہ میں نے تو شہید ہو جانا ہے، اس لئے میرے شہید ہو جانے کے بعد کوئی واویلا نہ کرنا۔مکرم سعید احمد طاہر صاحب شہید ایک شہید ہیں مکرم سعید احمد طاہر صاحب والد مکرم صوفی منیر احمد صاحب۔آج ان کا میں جنازہ غائب بھی پڑھوں گا۔شہید مرحوم کے آباؤ اجداد ضلع کرنال بھارت کے رہنے والے تھے۔ان کے پردادا حضرت رمضان صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام 99