شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 6 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 6

جاتے تو آج ساری دنیا امت واحدہ ہوتی۔خدا کا منشاء ہی یہ تھا کہ وہ سارے انسانوں کو جو مختلف بلا دو امصار میں آباد تھے آہستہ آہستہ ترقی دے کر اُسے اُمتِ واحدہ بنادیتا۔امت واحدہ بنانے اور مذہب کے ارتقاء کی مثال اس طرح بھی دی جاسکتی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے بچے کو اعلی تعلیم دلانا چاہے تو وہ پہلے دن ہی اونچے درجات کی کتابیں اسے لاکر نہیں دیتا بلکہ اس کی عقل کے مطابق ابتدائی تعلیم کی کتب وہ بھی بتصویر لا کر دیتا ہے تا کہ وہ تصاویر کو دیکھ کر الفاظ کو پہچان سکے۔اس کے برعکس اگر اسے اونچے درجات کی کتب لاکر دی جائیں تو وہ اس کو پھاڑنے کے سوائے کوئی کام نہ کرے گا۔ایسی صورت میں کیا ہم اس بچے کو بیوقوف کہیں گے یا پھر وہ بیوقوف ہوگا جو اسے ابتدائی کتب کی بجائے اونچے درجات کی کتب دیتا ہے۔بالکل یہی مفہوم اس آیت کا ہوگا کہ تمہارے آباؤ اجداد اس تعلیم کو پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے جیسا کہ تم رکھتے ہو۔وہ لوگ جو مذاہب کی ابتدائی تعلیم پر بیٹھے ہیں ان کو اس نکتہ پر غور کرنا چاہئے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر ہمارے نبی کے بعد کسی اور نبی نے کوئی تعلیم لانی تھی تو ہمارے نبی کو ہی کیوں نہ دی گئی۔اس لئے اسے قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔بڑی حیرت کی بات ہے کہ ایک انسان جو ایک بچے کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی خاطر بڑی حکمت سے کام لیتا ہے اور درجہ بدرجہ اس کے تعلیمی معیار کو بلند کرتا ہے اس کے بالمقابل خدا کو جو حکمتوں کا خزانہ ہے ایک ادنی انسان جتنی حکمت کا مالک بھی نہیں سمجھا جاتا۔( نعوذ باللہ ) اور کہا جاتا ہے کہ خدا نے انسان کو جو بھی دینا تھا وہ شروع میں ہی پہلے نبی کے ذریعہ ہی دے دیا۔جب ایک انسان اپنے بچے کو تعلیم دینے کی خاطر ایسا نہیں کرتا تو پھر خدا انسان کے ساتھ ایسی حالت میں ایسا کیوں کرتا جب کہ انسان کی حالت ایک بیچے جیسی تھی اور اس کو رہن سہن اوڑھنے بچھونے کھانے پینے کی تہذیب بھی نہ تھی۔آج کے زمانہ میں بھی اس شہادت کو پیش کیا