شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 5 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 5

ہوئیں اور عقلی اعتبار سے ترقی کرتا گیا اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے بھی انسانی عقل کے ارتقاء کو مدنظر رکھتے ہوئے انبیاء کے ذریعہ روحانی ترقی کے سامان پیدا کئے۔انسانی فطرت میں ایک بات یہ داخل ہے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے مذہب اور عقیدہ کو چھوڑنے کے لئے بالکل راضی نہیں ہوتا ہے۔اپنے منہ سے تو یہ بات کہے گا کہ تم جو بات کرتے ہو وہ درست ہے لیکن ہمارے باپ دادے ایسا ہی کرتے تھے اس لئے ہم بھی ایسا ہی کریں گے اور یہ بات صرف اور صرف مذہب کے معاملہ میں بیان کی جاتی ہے دنیا داری کے معاملہ میں نہیں۔دنیا داری کے معاملہ میں تو انسان جنگلوں سے نکل کر محلوں میں چلے گئے۔نگارہن چھوڑ کر لباس حریر کی طرف چلے گئے۔زمین کو چھوڑ کر چاند پر چلے گئے۔گویا کہ ہر میدان میں تدریجا ترقی کی۔اگر انسان نے ترقی نہیں کی اور ترقی کرنی نہیں چاہی تو وہ دین میں اور خدا کی طرف سے نازل کردہ تعلیمات کے حصول میں اور رُوحانیت کے حاصل کرنے کے لئے آسان راستوں کو اختیار کرنے میں اور جب بھی کبھی خدا کی طرف سے کوئی ہدایت دینے والا آیا تو اس زمانہ کے لوگوں نے اس کو ٹھکرادیا اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : وَإِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا انْزَلَ اللهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الْفَيْنَا عَلَيْهِ ابَاءَنَاء (البقرة آیت ۱۷۱) یعنی اور جب ان سے کہا جائے کہ اس ( کلام) کو جو اللہ نے اُتارا ہے پیروی کرو تو وہ کہتے ہیں کہ (نہیں) ہم تو اسی (طریقہ ) کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا۔یہی وجہ ہے کہ دنیا میں اس قدر مذاہب دیکھنے میں آتے ہیں۔کسی نے کسی نبی کا انکار کر دیا اور کسی نے کسی کا۔اگر سب لوگ یکے بعد دیگرے آنے والے نبیوں کو قبول کرتے چلے