شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 7 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 7

جاسکتا ہے۔آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے۔ایک تہذیب یافتہ آدمی اس کے ذریعہ حیرت انگیز کام دکھا سکتا ہے لیکن اگر اس کمپیوٹر کو انڈیمان کے جنگلی آدمیوں کے سامنے رکھ دیا جائے جو آج تک تہذیب یافتہ نہیں ہوئے ، جن کونگ ڈھانپنے تک کا احساس نہیں وہ اس کو توڑنے کے سوا اس سے اور کوئی کام نہ کریں گے۔آج حکومت ان کو عام تہذیب یافتہ انسانوں کے ساتھ ملانے کی خاطر بے انتہا کوشش کر رہی ہے۔اب وہ انسان علم کو کیا جانے اور مذہب کو کیا جانے یا آج کے سائنسی دور سے کیا سروکار رکھتے ہیں وہ تو نومولود بچے کی طرح ہیں جس کو سنبھالنا ہوگا۔آمد انبیاء دنیا میں پائے جانے والے تمام مذاہب میں مختلف انبیاء کی آمد کے واقعات اور حالات موجود ہیں۔اسی طرح دنیا کا کوئی خطہ بھی ایسا نہیں ہے جہاں پر کسی نہ کسی نبی کی آمد کو تسلیم نہ کیا گیا ہو۔یہ ہو سکتا ہے کہ دُور دراز کے علاقہ میں مبعوث ہونے کی وجہ سے اس کی خبر کسی دوسرے علاقہ میں نہ پہنچی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بہت عرصہ پہلے آنے کی وجہ سے، اور بوجہ مرور زمانہ ان کی زندگی کے حالات صحیح طور پر دنیا کے سامنے نہ آئے ہوں اور ان کی بگڑی ہوئی شکلیں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے ، اسی طرح ہندوستان میں پائے جانے والے مذاہب کا مطالعہ کرنے سے یہاں بھی بعض انبیاء کے ذکر ملتے ہیں۔جن میں شری کرشن جی مہاراج ، اور شری رام چندر جی مہاراج ، شری گوتم بدھ جی معروف ہیں۔ان کے علاوہ مہاویر جی کا نام بھی آتا ہے۔لیکن اس کتابچہ میں خاص طور پر شری کرشن جی مہاراج کے تعلق سے کچھ عرض کرنا ہے۔