شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 4
بسم الله الرحمن الرحيم خدا تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو اس کے ساتھ ہی نبیوں کی آمد کا سلسلہ جاری فرما کر انسان کی رُوحانی ترقی کے سامان بھی پیدا کئے۔جیسے جیسے انسان دنیاوی لحاظ سے ترقی کرتا گیا ویسے ویسے خدا تعالیٰ نے اس کی ذہنی استعدادوں کے مطابق اس کو روحانیت میں ترقی دینے کے لئے نئی نئی تعلیمات سے آراستہ کر کے ان میں نبی بھیجے۔یہی وجہ ہے کہ مختلف زمانوں میں مختلف نبیوں کے نام سننے میں آتے ہیں۔لیکن یہ سب نبی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سچی اور حقیقی تعلیم لے کر آئے تھے۔ہر آنے والا نبی اپنے سابقہ نبی کی حقیقی تعلیم کو دنیا میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے صادر ہونے والے نئے احکام بھی دنیا والوں کو دیتا۔جو آنے والے نبی کو مان لیتے اور سابقہ احکامات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ نئے احکاموں کو بھی قبول کر لیتے وہ گویا ایک نئے مذہب میں داخل ہو جاتے اور نہ ماننے والے اپنے پہلے والے نبی کے احکامات پر عمل کرنے کی وجہ سے پہلے والے مذہب میں شمار ہوتے۔اسی طرح انبیاء کا سلسلہ چلتا رہا نئے نئے احکام آتے رہے اور نئے نئے مذہب دنیا میں بنتے گئے۔لیکن اگر دیکھا جائے تو پہلے نبی کی حقیقی تعلیم جو بھی وہ خدا کی طرف سے لایا تھا اس کی جھلک ہر آنے والے نبی کی تعلیم میں موجود ہے۔اس طرح یہ سلسلہ آخر تک چلا جاتا ہے۔مذہبی تعلیم کے ارتقاء کی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ جیسے انسان نے دنیاوی لحاظ سے آہستہ آہستہ ترقی کی۔اس کے غور و فکر کرنے کی استعداد میں آہستہ آہستہ اُجاگر