شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 3
شری کرشن جی اور کلکی اوتار بِسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ جماعت احمد یہ ہمیشہ سے اس کوشش میں رہی ہے کہ بین المذاہب پائے جانے والے اختلافات کو قرآن کریم کی تعلیم کے تابع دُور کیا جائے اور خاص طور سے وہ موضوعات جو اختلافات کا باعث بنتے ہیں ان میں مطابقت پیدا کی جائے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے آمد انبیاء کا سلسلہ آفرینش سے جاری ہے اور قرآن کریم کی پیش کردہ تعلیم وَلِكُلِ قَوْمٍ هَادٍ کے تحت ہر ملک و ہر قوم اور ہر زمانہ میں خدا تعالیٰ کے انبیاء مبعوث ہوتے رہے ہیں۔قرآن کریم کے اس بیان کی روشنی میں ضروری تھا کہ ہندوستان میں بھی انبیاء مبعوث ہوتے۔یہاں کی قومیں جن بزرگوں کو اپنے نبی کا درجہ دیتی ہیں ان میں شری کرشن جی کا بہت بڑا مقام ہے۔اس کتاب میں مولوی برہان احمد صاحب ظفر نے ان کا ہی ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ بیشتر علماء اسلام اور بزرگان امت بھی ان کو خدا کا نبی تسلیم کرتے آئے ہیں۔نیز آپ نے شری کرشن کی طرف منسوب کئے جانے والے الزامات سے کرشن جی کے دامن کو پاک صاف کرنے کی بڑی عمدہ کوشش کی ہے۔ساتھ ہی کرشن جی کی آمد ثانی کو بیان کرتے ہوئے بین المذاہب اتحاد کی کوشش بھی۔خدا تعالیٰ ان کی ان کوششوں کو ثمر آور کرے۔آمین۔سیدنا سید نا حضرت خلیفتہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت و منظوری سے نظارت نشر و اشاعت قادیان کتاب ہذا کو افادہ عام کے لئے شائع کر رہی ہے۔دعا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے بہترین نتائج پیدا فرمائے۔آمین۔خاکسار حافظ مخدوم شریف ناظر نشر واشاعت قادیان