شری کرشن جی اور کلکی اوتار

by Other Authors

Page 40 of 60

شری کرشن جی اور کلکی اوتار — Page 40

" ہے راجہ ! کہ کلیگ میں لوگ سچائی اور دھرم چھوڑنے کی وجہ سے کمزور ہوں گے اور عمر کم ہوگی اور کرم دھرم سب چھوٹ جائیں گے۔اور بادشاہ پر جا سے لگان وغیرہ لیں گے اور دکھ دیا کریں گے۔اور بارش کم ہوگی جس کی وجہ سے اناج گراں رہے گا۔۔۔۔۔اور لوگ تھوڑی عمر ہونے پر بھی آپس میں فساد اور جھگڑا کریں گے اور اپنا دھرم چھوڑ کر جھوٹی سوگندھ (قسم) اور جھوٹی گواہی پیسے کی خاطر دیں گے اور پاپ اور پٹن کا خیال اور نیک و بد کی پہچان جاتی رہے گی۔چوری وغیرہ جاری کریں گے۔۔۔۔۔براہمنوں کے لئے نشانی نہ رہے گی کہ جس سے کوئی پہچان سکے کہ فلاں برہمن ہے اور دھن والے کی خاطر لوگ جان دیں گے اور اونچ نیچ کا کوئی خیال نہ رہے گا اور بیوپار میں دھوکا اور استری کی کوئی ذات خیال نہ رکھ کر بھوگ ولاس کیا کریں گے۔اور برہمن کا دھرم کرم چھوٹ جائے گا۔۔۔۔۔اور لوگ اپنے سر پر جٹیں بڑھا کر اپنے آپ کو برہم چاری کہلائیں گے اور بات پرست ہوں گے اور کنگال آدمی پیسے والے کو اونچی ذات کا سمجھیں گے اور جھوٹ بولنے والا سچا اور عقلمند کہلائے گا اور ہر ایک ذات تپ جپ اور کرم دھرم چھوڑ کر اشنان کرنے کے بعد کھانا کھا لیا کریں گے اور نہانے کو او تم کہیں گے۔اور اپنے لیش اور بُرائی کی باتیں کیا کریں گے اور اپنے آپ کو خوبصورت بنانے کی خاطر سر پر بڑے بڑے بال رکھیں گے اور پر لوک سدھار کوئی نہ ہوگا اور ملک میں چور ڈاکو زیادہ ہو ہو کر لوگوں کو تنگ کریں گے اور تکلیف پہنچائیں گے اور بادشاہ چوروں سے مل کر رعیت کا مال وزر چھین لیا کریں گے